Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6252

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّار فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهٗ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر أن عبدا لحاطب جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم يشكو حاطبا إليه فقال: يا رسول الله ليدخلن حاطب النار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « كذبت لا يدخلها فإنه قد شهد بدرا والحديبية » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ حاطب کا غلام نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۱∞؎حاطب کی شکایت حضور سے کرتا تھا تو بولا یا رسول الله حاطب دوزخ میں جائیں گے۲؎تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے جھوٹ کہا وہ دوزخ میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں حاضر ہوئے ہیں۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حاطب وہ ہی حاطب ابن ابی بلتعہ ہیں جنہوں نے حضور انور کے ارادے کی خبر اہل مکہ کو بھیجی تھی جس کا واقعہ پہلے گزر چکا۔
۲
؎یا تو اس لیے حاطب دوزخ میں جائیں گے کہ انہوں نے مسلمانوں کی جاسوسی کفار کے لیے کی یا اس لیے کہ وہ مجھ پر بہت ظلم کرتے ہیں۔
۳
؎یعنی دوزخ میں نہیں جاسکتے کہ وہ غزوہ بدر اور بیعت الرضوان دونوں میں شریک ہوئے ہیں اور ان دونوں میں سے ایک میں شرکت کرنے والا بھی جنتی ہے،ان کا جاسوسی کا قصور رب تعالٰی نے معاف کردیا اور وہ تجھ پر ظلم نہیں کرسکتے جسے تو ظلم سمجھتا ہے وہ ظلم نہیں ہے۔خیال رہے کہ نبی کے صحابی ظالم نہیں ہوتے۔حضرت سلیمان کے صحابہ کے متعلق چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا تھا"لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیۡمٰنُ وَ جُنُوۡدُہٗ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ"کہ تم کو وہ لوگ اپنے پاؤں سے کچل نہ دیں حالانکہ انہیں خبر نہ ہو۔معلوم ہوا کہ چیونٹی کا بھی عقیدہ ہے کہ نبی اور نبی کے صحابی ظالم نہیں ہوتے وہ چیونٹیوں پر بھی ظلم نہیں کرتے،اگر چیونٹی بھی ان کے پاؤں سے کچل جائے تو ان کی بے خبری بے توجہی کی وجہ سے کچل جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6252