Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6225

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ وَفِي رِوَايَةٍ: أَبَا مَرْثَدٍ بَدَلَ الْمِقْدَادِ - فَقَالَ: «انْطَلِقُوا حَتّٰى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا» فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادٰى بِنَا خَيْلُنَا حَتّٰى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا لَهَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ قَالَتْ: مَا مَعِيَ مِنْ كِتَابٍ. فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلٰى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَاطِبُ مَا هٰذَا ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَكَانَ مَنْ مَعَك من الْمُهَاجِرين لَهُمْ قَرَابَةٌ يحْمُونَ بهَا أَمْوَالَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذٰلِكَ مِنَ النَّسَبِ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًى بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهٗ قَدْ صَدَقَكُمْ» فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هٰذَاالْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهٗ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللّٰهَ اطَّلَعَ عَلٰى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُم فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ وَفِي رِوَايَةٍ: "فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا والزبير والمقداد وفي رواية: أبا مرثد بدل المقداد - فقال: «انطلقوا حتى تأتوا روضة خاخ فإن بها ظعينة معها كتاب فخذوا منها» فانطلقنا تتعادى بنا خيلنا حتى أتينا الروضة فإذا نحن بالظعينة قلنا لها: أخرجي الكتاب قالت: ما معي من كتاب. فقلنا لتخرجن الكتاب أو لتلقين الثياب فأخرجته من عقاصها فأتينا به النبي صلى الله عليه وسلم فإذا فيه: من حاطب بن أبي بلتعة إلى ناس من المشركين من أهل مكة يخبرهم ببعض أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا حاطب ما هذا ؟» فقال: يا رسول الله لا تعجل علي إني كنت امرأ ملصقا في قريش ولم أكن من أنفسهم وكان من معك من المهاجرين لهم قرابة يحمون بها أموالهم وأهليهم بمكة فأحببت إذ فاتني ذلك من النسب أن أتخذ فيهم يدا يحمون بها قرابتي وما فعلت كفرا ولا ارتدادا عن ديني ولا رضى بالكفر بعد الإسلام. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنه قد صدقكم» فقال عمر: دعني يا رسول الله أضرب عنق هذاالمنافق. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنه قد شهد بدرا وما يدريك لعل الله اطلع على أهل بدر فقال: اعملوا ما شئتم فقد وجبت لكم الجنة وفي رواية: "فقد غفرت لكم فأنزل الله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے مجھے اور زبیر اور مقداد کو بھیجا ۱∞؎دوسری روایت میں بجائے مقداد کے ابو مرثد ہیں ۲؎تو فرمایا کہ تم جاؤ حتی کہ خاخ کے باغ میں پہنچو۳؎وہاں ایک بوڑھی عورت ہے ۴؎جس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے لو ۵؎چنانچہ ہم چلے کہ ہم کو ہمارے گھوڑے دوڑا رہے تھے حتی کہ ہم باغ میں آئے ۶؎تو ہم اس بوڑھی کے پاس تھے ہم نے کہا خط نکال دو وہ بولی میرے پاس کوئی خط نہیں ہم نے کہا یا خط نکال ورنہ کپڑے اتار ۷؎تب اس نے اپنی چوٹی سے خط نکالا ۸؎ہم وہ خط نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس لائے تو اس میں حاطب بن بلتعہ کی طرف سے مکہ والے مشرکوں کی طرف پیغام تھا وہ مشرکوں کو نبی صلی الله علیہ و سلم کے بعض کاموں کی خبر دے رہے تھے ۹؎تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اے حاطب یہ کیا۱۰؎وہ بولے یارسول الله حضور مجھ پر جلدی نہ کریں ۱۱∞؎میں قریش میں ایک الحاقی شخص ہوں میں خود قریش میں سے نہیں ہوں اور جو مہاجرین آپ کے ساتھ ہیں ان کی قریش سے قرابت داریاں ہیں جن سے وہ مکہ میں ان کے مالوں ان کے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہیں ۱۲؎میں نے چاہا کہ جب مجھے ان سے نسبی رشتہ حاصل نہیں تو میں ان پر ایک احسان کردوں جس سے وہ میرے عزیزوں کی حفاظت کریں۱۳؎میں نے یہ کام نہ تو کفر کی وجہ سے کیا نہ اپنے دین سے پھرتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر سے راضی ہوکر۱۴؎تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ انہوں نے تم سے سچ کہا۱۵؎جناب عمر بولے یارسول الله مجھے چھوڑیئے میں اس منافق کی گردن مار دوں۱۶؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ بدر میں حاضر ہوئے ہیں ۱۷؎تمہیں کیا خبر شاید الله تعالٰی نے بدر والوں پر توجہ فرمائی ہے ۱۸؎فرمایا ہو کہ جو چاہو کرو۱۹؎تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی۲۰؎اور ایک روایت میں ہے کہ میں تم کو بخش چکا تب اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ۲۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مقداد ابن عمرو کندی ہیں،آپ چھٹے مسلمان ہیں،آپ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر مقام جرف میں فوت ہوئے،مدینہ منورہ میں لاکر دفن کیے گئے،ستر سال عمر پائی، ۳۳ھ؁ ∞تینتیس میں وفات ہوئی۔
۲
؎ابو مرثد کا نام کناز ابن حصین غنوی ہے،بدر وغیرہ تمام غزوات میں حاضر ہوئے، ۱۲ھ؁ ∞میں وفات ہوئی،۶۶چھیاسٹھ سال عمر ہوئی۔حق یہ ہے کہ یہ چاروں حضرات اس خدمت کے لیے بھیجے گئے تھے:حضرت علی،زبیر،مقدار اور ابو مرثد غنوی۔(مرقات)
۳
؎خاخ مدینہ منورہ کا ایک باغ تھا جو مکہ معظمہ کے راستہ پر واقع تھا مدینہ پاک سے قریب ہی تھا اب وہ گم ہوچکا ہے۔
۴
؎ظعینہپردہ نشین عورت کو کہتے ہیں۔اس عورت کا نام سارہ تھا،مکہ کی رہنے والی تھی،قریش کی آزاد کردہ تھی،چونکہ صلح حدیبیہ کے بعد کفار مکہ کا مدینہ منورہ میں جانا آنا ہوگیا تھا،اس سلسلہ میں یہ بھی مدینہ منورہ آئی تھی۔
۶
؎یہ ہے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا علم غیب کہ مدینہ منورہ سے یہ عورت کفار مکہ کے نام ایک خط جاسوسی کا لے کر چلی جو اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں چھپا رکھا تھا،حضور انور صلی الله علیہ و سلم کو الله تعالٰی نے اس کا علم عطا فرمایا تھا اگرچہ وہ عورت جاسوسی کے جرم میں قتل کے قابل تھی مگر حضور انور نے نہ تو اس کے قتل کا حکم دیا نہ اس کی گرفتاری کا صرف یہ فرمایا کہ وہ خط اس سے لے لو اسے مکہ معظمہ جانے دو کیونکہ اس کے قتل سے کفار مکہ سے جنگ چھڑ جانے کا اندیشہ تھا۔منشاء الٰہی یہ تھا کہ بغیر سخت جنگ کے فتح مکہ ہوجائے ادھر وہ جاسوسی میں ناکام بنادی گئی تھی۔
۶
؎یعنی ہم نے گھوڑے دوڑائے باغ میں آکر ہی دم لیا کسی جگہ ٹھہرے نہیں تاکہ وہ آگے نہ چلی جائے یہ ہے صحابہ کرام کا حضور کے فرمان عالی پر قوی عمل۔
۷
؎بخاری کی ایک روایت میں یوں ہےلتخرجن الکتاباو لنجردنك،یہ الفاظ بخاریباب من شھدیدامیں ہیں یعنی یا تو خط نکال ورنہ ہم تجھے بالکل ننگا کرکے تیری تلاشی لیں گے۔یہاں اس عبارت کے معنی یہ ہیں کہ یا تو تو خط نکال ورنہ ننگی ہو تلاشی دے۔اس سے معلوم ہوا کہ کافرہ عورت کا نہ کوئی احترام ہے نہ اس کا کوئی پردہ،اسے ننگا کرکے تلاشی لینا بروقت ضرورت ممنوع نہیں بلکہ فاسِقہ عورت کا احترام کوئی نہیں۔حضرت عمر رضی الله عنہ نے ایک عورت کو زنا کی سزا میں کوڑے مارے، کوڑوں کے درمیان اس کا دوپٹہ اتر گیا لوگوں نے کہا حضور اس کا پردہ،فرمایا اس نے اپنا احترام خود ہی ختم کردیا۔(دیکھو شامی)اگر وہ عورت خط نہ دیتی تو جناب علی شیر خدا اسے ننگا کرکے ہی اس کی تلاشی لیتے اور خط حاصل کرتے۔
۸
؎بعض روایات میں ہے کہ اس نے اپنی کمر سے یہ خط نکالا ہوسکتا ہے کہ اس کی چوٹی بہت دراز ہو کمر تک پہنچی ہو اس میں سے اس نے خط نکالا ہو لہذا دونوں روایات درست ہیں۔(مرقات)یہاںعقاصبمعنی چوٹی ہے۔
۹
؎یہ کلام راوی کا ہے جس میں اس واقعہ کی خبر دی گئی حاطب کے لکھے ہوئے یہ الفاظ نہ تھے۔(مرقات)
۱۰
؎یہ سوال اظہار غضب کے لیے ہے اسلام کی جاسوسی سخت جرم ہے کہ اس سے قوم ملک،ملت سب ہی کو نقصان ہوتا ہے۔
۱ ۱∞؎
میں ہوں تو مجرم مگر سزا دینے میں حضور کچھ توقف فرمائیں میرا عذر سن لیں۔
۱۲
؎یعنی سارے مہاجرین مکہ کی کفار مکہ سے قرابتداریاں اور ان مہاجرین کے عزیز و اقارب مال گھر بار مکہ معظمہ میں ہیں کفار مکہ ان قرابت داریوں کی وجہ سے ان مہاجرین کے عزیزوں مال گھر بار کو چھیڑتے نہیں بلکہ ایک طرح کی حفاظت ہی کرتے ہیں ان سب کے گھر بار بال بچے عزیز و اقارب وہاں محفوظ ہیں۔
۱۳
؎یعنی میرے عزیزواقارب گھر بار بھی مکہ معظمہ میں ہیں مگر میری کفار مکہ سے قرابت کوئی نہیں میں نے چاہا کہ ان پر یہ احسان کردوں کہ مسلمانوں کے ارادے کی انہیں خبر دے دوں وہ اگرچہ کافر ہیں مگر احسان فراموش نہیں۔شاید اس احسان کی وجہ سے وہ میرے گھر بار وغیرہ کی حفاظت کریں حاطب نے فتح مکہ کی تیاریوں کی کفار کو خبر دی تھی کہ ہوشیار ہوجاؤ مکہ معظمہ پر مسلمان حملہ کرنے والے ہیں۔
۱۴
؎یہ جملہ پہلے کلام کی تاکید یا تفسیر ہے یعنی نہ تو میں اسلام سے پھر گیا ہوں نہ کفر سے راضی ہوا ہوں،نہ کفار کا غلبہ چاہتا ہوں نہ مسلمانوں کی مغلوبیت سے راضی ہوں۔
۱۵
؎یعنی حاطب جو زبان سے کہہ رہے ہیں وہ ہی ان کے دل میں ہے واقعی وہ ہیں مسلمان یہ حرکت ان سے غلط فہمی کی بنا پر ہوگئی۔
۱۶
؎یعنی یارسول الله اگرچہ حاطب ہیں تو مسلمان حضور نے ان کے ایمان کی تصدیق فرمادی مگر انہوں نے کام منافقون کا سا کیا ہے،مجھے اجازت دے دیں میں قتل کردوں تاکہ دوسروں کو آئندہ جاسوسی کی ہمت نہ پڑے ان کا قتل سیاسی اور ملکی انتظام کے لیے مناسب ہے،حضرت عمر نے حضور انور کینعوذ باللهتردید نہ کی نہ حاطب کو عقیدے کامنافق مانا بلکہ سیاسی طور پر قتل کرنا چاہا اسی لیے تو حضور سے اجازت مانگی اگر وہ حاطب کو واقعی جاسوس سمجھتے تو بغیر پوچھے ہی انہیں قتل کردیتے،نیز حضور صلی الله علیہ و سلم نے بھی حضرت عمر پر عتاب نہ کیا یہ نہ فرمایا کہ جب میں انہیں مؤمن کہہ رہا ہوں تو تم انہیں منافق کیوں کہتے ہو لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔خیال رہے کہ حضور کے زمانہ پاک میں منافقین کو قتل نہیں کیا جاتا تھا مگر جب ان کا کفر یا دینی نقصان ظاہر ہوتا تو وہ قابل قتل ضرور ہوجاتے تھے۔جاسوسی تو وہ جرم ہے جس سے مسلمان کا قتل بھی جائز ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضرت عمر کا اجازت قتل مانگنا حضور انور کے اس فرمان عالی سے پہلے تھا روایت کے الفاظ میں تقدیم تاخیر ہے پہلی بات مرقات نے فرمائی دوسری بات اشعۃ اللمعات نے۔
۱۷
؎لہذا ان کا احترام کرو حاضرین بدر واجب الاحترام ہیں ان میں کوئی منافق یا کافر نہ تھا نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔
۱۸
؎حضور انور کا شاید فرمانا بھی یقین کی بنا پر ہوتا ہے،حضور کا شاید ہمارے یقین سے بڑھ کر ہے۔شاید اس لیے فرمایا کہ اہل بدر اعمال سے بے نیاز نہ ہوجاویں(اشعہ)یالعلفرمانا حضرت عمر کے لحاظ سے ہے جیسے رب بندوں سے فرماتا ہے"لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ"۔(مرقات)
۱۹
؎اس جملہ کی شرح فضائل عثمان ابن عفان کے باب میں عرض کی جاچکی ہے کہ اس فرمان عالی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اہلِ بدر کو گناہوں یا کفروشرک کی اجازت دے دی گئی بلکہ مقصد یہ ہے کہ رحمت الٰہی تمہارے شاملِ حال رب کی دستگیری تمہاری دامن گیر ہے جو چاہو کرو،تم وہ کام کرسکو گے ہی نہیں جو دوزخ کا ذریعہ ہو،جن کے دلوں پر رب کی رحمت ہووہ دل گناہوں کی طرف مائل ہی نہیں ہوسکتا جیسے پرندہ کے پر کاٹ کر کہا جائے کہ تو جہاں چاہے اڑتا پھر۔
۲۰
؎یہ گزشتہ فرمان کی دلیل ہے یعنی جنت تمہارے لیے میں نے واجب کردی اب تم دوزخ والے کام نہیں کرسکتے لہذا اے عمر جناب حاطب کا یہ عمل کفر و شرک یا گناہ والا نہیں ہوسکتا یہ غلط فہمی سے حاطب نے کیا ہے لہذا ان سے کچھ نہ کہو۔
۲ ۱∞؎
اس آیت میں رب تعالٰی نے ان حضرات خصوصًا حضرت حاطب کوالذین امنواسے خطاب فرمایا۔معلوم ہوا کہ ان سے یہ جو کچھ سرزد ہوا وہ کفر نہ تھا۔خیال رہے کہ بدر والوں سے اخروی مغفرت کا وعدہ ہے دنیاوی سزا انہیں مل سکتی ہے۔چنانچہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے حضرت مسطح ابن اثاثہ کو تہمت کی سزا اسی کوڑے جاری فرمائی جب وہ حضرت عائشہ صدیقہ کی تہمت میں شریک ہوگئے حالانکہ وہ بدری تھے۔خیال رہے کہ حضرت حاطب نے اپنے اس عمل سے حضور صلی الله علیہ و سلم کو تکلیف دینے کا خیال تک نہ کیا تھا ورنہ کفر ہوتا انہوں نے اپنے سے کفار کی اذیت دفع کرنے کی کوشش کی تھی،ان کا خیال تھا اس سے حضور انور کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا مکہ معظمہ فتح ہوکر رہے گا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6225