Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6214

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَتٰى عَلٰى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلَالٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا: مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللّٰهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللّٰهِ مَأْخَذَهَا. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَتَقُولُونَ هٰذَالِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ " فَأَتَاهُمْ فَقَالَ: يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ قَالُوا: لَا يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكَ يَا أَخِي. رَوَاهُ
مُسْلِمٌ

وعن عائذ بن عمرو أن أبا سفيان أتى على سلمان وصهيب وبلال في نفر فقالوا: ما أخذت سيوف الله من عنق عدو الله مأخذها. فقال أبو بكر: أتقولون هذالشيخ قريش وسيدهم؟ فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره فقال: يا أبا بكر لعلك أغضبتهم لئن كنت أغضبتهم لقد أغضبت ربك " فأتاهم فقال: يا إخوتاه أغضبتكم قالوا: لا يغفر الله لك يا أخي. رواه
مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت عائذ ابن عمرو سے کہ ابو سفیان حضرت سلمان اور صہیب اور بلال پرگزرے ۱∞؎جو ایک جماعت میں تھے تو ان حضرات نے کہا کہ الله کی تلواریں الله کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ پر نہ گزریں۲؎تو جناب ابوبکر بولے کہ کیا تم قریش کے بوڑھے اور ان کے سردار کے متعلق یہ کہتے ہو۳؎پھر وہ نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں آئے آپ کو خبر دی۴؎تو فرمایا اے ابوبکر شاید تم نے ان حضرات کو ناراض کردیا اگر تم نے انہیں ناراض کردیا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کردیا ۵؎تب ابوبکر ان حضرات کے پاس آئے بولے اے میرے بھائیو کیا میں نے تم کو رنجیدہ کردیا وہ بولے نہیں اے میرے بھائی الله تم کو بخشے ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے کا ہے جب کہ ابوسفیان مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر صلح ہوجانے کی وجہ سے مدینہ منورہ آیا جایا کرتے تھے کیونکہ وہاں ان کی دختر حضرت ام حبیبہ حضور صلی الله علیہ و سلم کی زوجہ تھیں۔(مرقات،اشعہ)
۲
؎یعنی اب تک اتنے جہاد ہوئے مگر ہماری تلواروں نے ابو سفیان کی گردن نہ کاٹی الله کی تلواروں سے مراد غازی مجاہدوں کی تلواریں ہیں جو راهِ الٰہی میں چلتی تھیں۔دشمن خدا سے مراد ابوسفیان ہیں کیونکہ اس وقت تک وہ کافر تھے۔
۳
؎یعنی ابوسفیان قرشی ہیں اور قرشیوں کے سردار ہیں اور ہمارے مدینہ میں امان سے آئے ہوئے ہیں تم ان کے لیے ایسے سخت لفظ بول رہے ہو ایسا نہ ہو کہ پھر ان سے جنگ چھڑ جائے آپ کا یہ فرمان نہایت ہی نیک نیتی پر مبنی تھا۔
۴
؎یعنی عرض کیا کہ یارسول الله ان حضرات نے ابوسفیان سے یہ کہا تھا میں نے یہ کہا مگر میری نیت نیک تھی من وعن سب کچھ عرض کردیا۔
۵
؎یعنی اے ابوبکر نیت تمہاری بالکل درست ہے مگر اس میں ایک کافر کی حمایت کی اور مؤمنوں کی تادیب کی مہک آرہی ہے ممکن ہے کہ اس وجہ سے ان حضرات کے دلوں کو صدمہ پہنچا ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ الله تعالٰی اور حضور صلی الله علیہ و سلم کی خوشنودی مساکین و غربا خصوصًا مساکین صحابہ کی رضا خوشنودی میں ہے،اس کی ناراضی ان حضرات کی ناراضی میں ہے؎دلا خوش باش کان سلطان دین را بدر ویشاں ومسکیناں سرے ہست
۶
؎عرب میںیغفر الله لكاظہار خوشی کے لیے کہتے ہیں وہ ہی محاورہ یہاں استعمال ہوا ہے،رب فرماتاہے:"عَفَا اللهُ عَنۡكَ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمْ"۔اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی رنجشیں بہت جلد دور کرلینی چاہئیں،جس سے شکایت ہو اس سے براہ راست مل کر صفائی کرلینی چاہیے۔آج مسلمان اس سبق کو بھول گئے اسی وجہ سے انکی آپس کی رنجشیں ختم نہیں ہوتیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6214