Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6255

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ رُقَبَاءَ وَأُعْطِيْتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عشرَة قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " أَنَا وَابْنَايَ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَبِلَالٌ وَسَلَّمَانُ وَعَمَّارٌ وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن لكل نبي سبعة نجباء رقباء وأعطيت أنا أربعة عشرة قلنا: من هم؟ قال: " أنا وابناي وجعفر وحمزة وأبو بكر وعمر ومصعب بن عمير وبلال وسلمان وعمار وعبد الله بن مسعود وأبو ذر والمقداد. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کے سات برگزیدہ حافظین ہوئے ۱∞؎اور مجھے چودہ عطا فرمائے گئے ہم نے عرض کیا وہ کون ہیں فرمایا میں اور میرے دونوں بیٹے جعفر،حمزہ۲؎ابوبکر،عمر، مصعب ابن عمیر، بلال، سلیمان،عمار، عبدالله ابن مسعود،ابوذر،مقداد۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎نجباءجمع ہےنجیبکی بمعنی شریف یا منتخب اور برگزیدہ اوررقباءجمع ہےرقیبکی بمعنی حافظ و نگہبان یعنی ہر نبی کے ان کی امت میں سات امتی ان کے منتخب اور ان نبی کے پاسبان ہوتے تھے مگر ہم کو الله تعالٰی نے ایسے برگزیدہ چودہ افراد عطا فرمائے۔
۲
؎جعفر ابن ابی طالب تو حضرت علی کے بھائی ہیں اور حضرت حمزہ ابن عبدالمطلب حضور انور کے چچا اور آپ کے رضاعی بھائی ہیں،حضرت ثویبہ رضی الله عنہا نے حضور کو بھی دودھ پلایا ہے اور جناب حمزہ کو بھی۔آپ کی کنیت ابو عمارہ ہے، آپ کا خطاب اسدالله ہے،نبوت کے دوسرے سال ایمان لائے،بدر میں شریک ہوئے اور احد میں شہید ہوئے،آپ کو وحشی ابن حرب نے شہید کیا،حضور انور نے سے دو یا چار سال پہلے پیدا ہوئے تھے۔(مرقات)
۳
؎معلوم ہوا کہ ان چودہ کو حضور صلی الله علیہ و سلم سے ایک خاص قسم کا ایسا قرب حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں دوسرے حضرات کو اور قسم کی خصوصیات حاصل ہیں۔اس چمن میں ہر پھول کا رنگ و بو علیحدہ ہے۔تمام احادیث پر نظر رکھنی چاہیے،علماءدین نے ساری احادیث کے مطالعہ سے جو مراتب حضرات صحابہ کے معلوم کیے ہیں ان پر اعتقاد رکھو کہ ان کی نظر ساری روایات پر تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6255