Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6253

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللّٰهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا؟ فَضَرَبَ عَلٰى فَخِذِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ثُمَّ قَالَ: «هٰذَاوَقَوْمُهٗ وَلَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهٗ رِجَالٌ مِنَ الْفُرْسِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم تلا هذه الآية: وإن تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم قالوا: يا رسول الله من هؤلاء الذين ذكر الله إن تولينا استبدلوا بنا ثم لا يكونوا أمثالنا؟ فضرب على فخذ سلمان الفارسي ثم قال: «هذاوقومه ولو كان الدين عند الثريا لتناوله رجال من الفرس» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ اگر تم منہ پھیرو گے تو رب دوسری قوم تمہارے سوا بدل لائے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے ۱∞؎صحابہ نے عرض کیا یارسول الله یہ لوگ کون ہیں جن کے متعلق الله نے ذکر فرمایا کہ اگر ہم منہ پھیریں تو وہ ہماری عوض بدلہ میں لائیں جائیں گے پھر وہ ہم جیسے نہ ہوں گے۲؎تو حضور نے جناب سلمان فارسی کی ران پر ہاتھ مارا پھر فرمایا کہ یہ اور ان کی قوم ہے ۳؎اگر دین ثریا تارے کے پاس ہوتا تو فارس کے کچھ لوگ اسے پالیتے ۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس آیت کریمہ میں خطاب حضرات صحابہ سے ہے کہ اگر تم لوگ دین اسلام کی خدمت نہیں کرو گے تو تمہاری جگہ رب تعالٰی دوسری قوم سے خدمت دین لے لے گا،تم دین کے حاجتمند ہو دین تمہارا حاجت مند نہیں تب وہ سوال ہوا جو آگے مذکور ہے۔
۲
؎یعنی یارسول الله وہ کون خوش نصیب ہیں جو ہمارے فیل ہوجانے کی صورت میں دین کو وہ سنبھالیں گے اور اس صورت میں وہ ہم سے اچھے ہوں گے اس قوم کا تعین فرمائیے۔
۳
؎اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ ظاہر یہ ہے کہ اس فرمان عالی میں امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں بلکہ انکے معتقدین کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت ابوحنیفہ حضرت سلمان فارسی کے ہم وطن اور ہم قوم یعنی فارسی النسل ہیں،امام اعظم اور ان کے شاگردوں نے دین کی وہ خدمات کیں جسے زمانہ یاد رکھے گا۔اب بھی دنیا میں دو تہائی مسلمان حنفی ہیں باقی ایک تہائی میں سارے لوگ حدیث و آیات سے ایسے مسائل مستنبط فرمائے کہسبحان الله!۴؎فرسفرما کر حضور انور نے ظاہر فرمادیا کہ اس فرمان عالی میں اشارہ سارے عجم کی طرف نہیں ہے بلکہ اہل فارس مراد ہیں یعنی امام ابو حنیفہ کیونکہ صرف آپ ہی فارسی النسل ہیں آپ کے سوا کوئی امام فارسی نہیں،امام اعظم کے دادا حضرت زوطی حضرت علی کی محبت میں ایران چھوڑ کر کوفہ آبسے اس لیے آپ کوفی ہوئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6253