Main Icon

باب: منقبتوں کا مجموعہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6232

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللّٰهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَ لِي أَبَا هُرَيْرَةَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنِّي سَأَلْتُ اللّٰهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَوُفِّقْتَ لِي فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهٗ. فَقَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ؟ وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ؟ وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَعَمَّارٌ الَّذِي أَجَارَهُ اللّٰهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلٰى لِسَانِ نَبِيِّهٖ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَسَلَّمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ؟ يَعْنِي الْإِنْجِيلَ وَالْقُرْآنَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن خيثمة بن أبي سبرة قال: أتيت المدينة فسألت الله أن ييسر لي جليسا صالحا فيسر لي أبا هريرة فجلست إليه فقلت: إني سألت الله أن ييسر لي جليسا صالحا فوفقت لي فقال: من أين أنت؟ قلت: من أهل الكوفة جئت ألتمس الخير وأطلبه. فقال: أليس فيكم سعد بن مالك مجاب الدعوة؟ وابن مسعود صاحب طهور رسول الله صلى الله عليه وسلم ونعليه؟ وحذيفة صاحب سر رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ وعمار الذي أجاره الله من الشيطان على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم؟ وسلمان صاحب الكتابين؟ يعني الإنجيل والقرآن. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خیثمہ ابن ابی سبرہ سے ۱ ∞؎فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا میں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے نیک ہم نشین میسر فرمائے تو اس نے میرے لیے جناب ابوہریرہ میسر فرمائے ۲؎میں ان کے پاس بیٹھا میں نے کہا کہ میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کوئی نیک ہم نشین میسر کرے تو مجھے آپ دیئے گئے ۳؎فرمایا تم کہاں کے ہو میں نے کہا کوفے والوں میں سے ہوں میں یہاں بھلائی تلاش کرنے اسے حاصل کرنے آیا ہوں۴؎تو فرمایا کیا تم میں سعد ابن مالک نہیں جو مقبول الدعاء ہیں ۵؎اور ابن مسعود نہیں جو حضور کی طہارت شریف کے منتظم اور نعلین پاک والے ہیں ۶؎اور حذیفہ نہیں جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے رازدان ہیں اور کیا عمار نہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان پر شیطان سے امان دی اور کیا سلمان نہیں جو دو کتابوں یعنی انجیل اور قرآن والے ہیں ۷؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ خیثمہ بن عبدالرحمن ابن ابی سبرہ جعفی ہیں،عظیم الشان تابعی ہیں،ایسے سخی تھے کہ آپ کو دو لاکھ روپیہ میراث میں ملے سب علماء پر خرچ کردیئے۔(مرقات)
۲
؎یعنی میں اپنے وطن کوفہ سے مدینہ منورہ طلب علم کے لیے یا کوئی مسئلہ پوچھنے کے لیے آیا تو میں نے یہ دعا کی۔اس سے معلوم ہوا کہ طلب علم کے لیے سفر بزرگوں کی سنت ہے،جس شہر میں جائے وہاں کے بزرگوں سے ضرور ملے ورنہ وہاں کے مشہور مزارات پر حاضری دے کہ یہ بھی مقبولوں سے ملاقات ہے۔لاہور جاؤ تو حضور داتا صاحب قدس سرہ کے آستانہ پر حاضری دو،سرہند شریف سے گزرو تو حضور مجدد صاحب کے آستانہ پر ضرور حاضری دو،اجمیر شریف جاؤ تو خواجہ صاحب کے مزار پر انوار پر حاضری دو۔
۳
؎یعنی اے صحابی رسول آپ کی ملاقات میری اس دعا کی مقبولیت کا اظہار ہے یہ ملاقات اتفاقی نہیں رب تعالٰی کا خاص عطیہ ہے۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کی ملاقات اللہ کی نعمت ہے۔
۴
؎یہاںخیرسے مراد علم باعمل ہے جسے قرآنی اصطلاح میں حکمت کہا جاتا ہے"وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا كَثِیۡرًا
۵
؎مالک نام ہے ابی وقاص کا آپ سعد ابن ابی وقاص ہیں،آپ کے حالات اور مقبول الدعاء ہونے کی وجہ پہلے بیان ہوچکی ہے۔
۶
؎یعنی کوفہ ہی میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رہتے ہیں جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نعلین بردار اور وضوء کا لوٹا اٹھانے والے صحابی ہیں،جن کو اللہ یہ خدمت نصیب فرمائے سوچ لو وہ کیسے خوش نصیب اور کیسے شان والے ہوں گے۔
۷
؎حضرت سلمان فارسی پہلے عیسائی بنے اور انجیل شریف پر عامل رہے،پھر مسلمان ہوکر قرآن کریم پر عمل کرتے رہے،آپ نے کسی کو اپنے والد کا نام نہیں بتایا جب پوچھا جاتا کہ آپ کے والد کون ہیں تو کہتے اسلام اور میں اسلام کا بچہ ہوں،ہمیشہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے رہے،آپ کی عمر اور آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلمان نے عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی ہے۔(اشعہ)مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ آپ کی عمر ساڑھے تین سو برس تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور انور سے پانچ سو ستر سال پہلے ہوئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6232