Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3892

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيْسِ فِيْ غَزْوَةِ تَبُوْكَ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيْسِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن كعب بن مالك: أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوم الخميس في غزوة تبوك، وكان يحب أن يخرج يوم الخميس. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعرات کے دن غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے ۲؎اور آپ جمعرات کے دن نکلنا پسند فرماتے تھے۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ وہ ہی کعب ابن مالک ہیں جو غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوسکے تھے جس پر آپ کا بائیکاٹ کیا گیا تھا،پھر سورۂ توبہ میں آپ کی توبہ قبول ہونے بائیکاٹ کھلوانے کا ذکر ہے،بڑی ہی شان کے مالک ہیں اللہ تعالٰی نے آپ کو صادقین میں سے فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کو حکم دیا"کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ
۲
؎تبوک غیرمنصرف ہے علمیۃ اور وزن فعل کی وجہ سے۔بوكسے بنا ہے بمعنی پانی کا جوش مارنا لکڑی وغیرہ رہنے کی وجہ سے،شام کے ایک شہر کا نام تبوک ہے۔یہ فقیر تبوک کے اوپر سے ہوائی جہاز سے گزرا،مدینہ منورہ سے خیبر ایک سو ساٹھ میل ہے اور خیبر سے پانچ سو میل تبوک ہے،اس زمانہ میں مدینہ منورہ سے تبوک ایک ماہ کے فاصلہ پر تھا،غزوہ تبوک ۹ھ؁ ∞ میں ہوا اور یہ حضور انور کا آخری غزوہ ہے۔(ازمرقات) فقیر نے خیبر کی زیارات کی ہیں اب حجاز کی سرحد مقام مان تک ہے،مان تبوک سے تقریبًا دو سو میل ہے اور مان سے مقا م عمان تین سو میل ہے،عمان اردن کا دار الخلافہ ہے،عمان سے ۹۸ میل بیت المقدس ہے جسے اب قدس کہتے ہیں بیت المقدس فلسطین میں ہے۔
۳
؎یا تو سفر جہاد کے لیے جمعرات پسند فرماتے تھے یا ہر سفر کے لیے۔خیال رہے کہ چند وجوہ سےجمعرات کو سفر کے لیے پسند فرمایا گیا:ایک یہ کہ جمعرات مبارک دن ہے کہ اس میں بندوں کے اعمال بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوتے ہیں،بہتر یہ ہے کہ عملی حج کی ابتداء اس دن سے ہو۔دوسرے یہ کہ جمعرات ہفتہ کا آخری دن ہے۔تیسرے یہ کہ جمعرات جمعہ کا پڑوسی ہے کہ اس کی آمد کی خبر دیتا ہے۔چوتھے یہ کہ جمعرات کو عربی میں خمیس کہتے ہیں تو اس دن روانگی میں نیک فال ہے۔پانچویں یہ کہ جمعرات کو خمیس کہتے ہیں جو خمیس بمعنی پانچ سے بنا ہے اور غنیمت سے اللہ رسول کے لیے خمس ہی نکالا جاتا ہے اللہ تعالٰی خمیس کی برکت سے خمس والی غنیمت عطا فرمائے۔خیال رہے کہ سفر کے لیے ہفتہ ،سوموار اور جمعرات نہایت ہی مبارک ہیں جو کوئی ہفتہ کے دن سورج نکلنے سے پہلے سفر کو نکل جائےان شاءاللهکامیاب اور بامراد واپس ہوگا۔ (ازمرقات و اشعہ مع زیادۃ)مگر خیال رہے کہ اسلام میں کوئی دن یا کوئی ساعت منحوس نہیں ہاں بعض دن بابرکت ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3892