Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3897

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا مِنَ الأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوْا عَلَيْهَا السَّيْرَ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيْقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ". وَفِيْ رِوَايَةٍ: "إِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوْا بِهَا نِقْيَهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا سافرتم في الخصب فأعطوا الإبل حقها من الأرض، وإذا سافرتم في السنة فأسرعوا عليها السير، وإذا عرستم بالليل فاجتنبوا الطريق فإنها طرق الدواب ومأوى الهوام بالليل". وفي رواية: "إذا سافرتم في السنة فبادروا بها نقيها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم سبزی کی سال میں سفر کرو ۱؎تو اونٹ کو اس کی زمین کا حصہ دو ۲؎اور جب تم خشکی کی سال میں سفر کرو تو اس پر تیز رفتار کرو۳؎اور جب تم رات آرام کرو تو راستہ سے الگ اترو ۴؎کیونکہ وہ جانوروں کے راستے اور رات میں کیڑے مکوڑوں کے ٹھکانے ہیں ۵؎اور ایک روایت میں ہے کہ جب تم خشک سال میں سفرکرو تو اونٹ کے دبلے ہونے سے جلدی کرو ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎خصبخ کے فتحہ ص کے سکون سے بمعنی ارزانی کا سال یہاں مراد سرسبزی کا زمانہ ہے جب بارشیں مناسب ہوچکی ہوں جنگل ہر بھرے ہوں۔
۲
؎اس طرح کہ تھوڑی تھوڑی دور سفر کرکے اونٹ کو چرنے کے لیے چھوڑ دو کہ وہ بھی زمین کی سبزی کھالے راستہ میں ٹھہرتے اور چراتے ہوئے سفر طے کرو۔
۳
؎راستہ میں بلا ضرورت نہ ٹھہرو جلد سفر کرکے منزل پر پہنچو تاکہ اونٹ تھک کر راہ میں ہی نہ رہ جائیں جس سے تم کو بھی مصیبت پڑ جائے۔
۴
؎عرستمبنا ہےتعریسسے عربی میںتعریسکے معنی ہیں مسافر کا آخری رات میں آرام کرنا،یہاں بطریق تجربہ مطلقًا رات میں آرام کرنا مراد ہے اول رات میں ہو یا آخر رات میں جیساکہ آئندہ وجہ بیان فرمانے سے معلوم ہورہا ہے۔یہ احکام استحبابی ہیں بطور مشورہ۔
۵
؎دوابسے مراد مسافروں کے جانور ہیں،ھوامسے مراد زہریلے جانور سانپ بچھو وغیرہ بہرحال راستے اور گزرگاہ میں اترنا ٹھہرنا تکلیف دہ بھی ہے خطرناک بھی۔مرقات نے یہاں فرمایا کہتعریسسے مراد مطلقًا اترنا ہے رات میں ہو یا دوپہری میں۔
۶
؎نقینون،قاف،ی بمعنی ہڈی کی مینگ یعنی اس سے پہلے سفرختم کر کے گھر پہنچ جاؤ کہ جانوروں کی ہڈی کی مینگ ختم ہوجائے اور دبلے ہوکر تھک رہیں۔بعض شارحین نےنقبب سے روایت کی ہے بمعنی اونٹ کے پاؤں کا ہلکا ہوجانا یعنی ان کا پاؤں ہلکا پڑ جانے سے پہلے گھر پہنچ جاؤ جب بھی مطلب وہ ہی ہے،بعض لوگوں نےنقببمعنی راستہ کہا مگر یہ غلط ہے کہ پھر مطلب ہی کچھ نہیں بنتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3897