Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3906

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجدِ فَصَلَّى فِيْهِ رَكْعَتَيْنِ، ثم جَلَسَ فِيْهِ لِلنَّاسِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن كعب بن مالك قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يقدم من سفر إلا نهارا في الضحى، فإذا قدم بدأ بالمسجد فصلى فيه ركعتين، ثم جلس فيه للناس. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف نہ لاتے تھے مگر دن کو دوپہر کے وقت پھر جب تشریف لاتے تو مسجد سے ابتداء فرماتے وہاں دو رکعتیں پڑھتے ۱؎پھر وہاں ہی لوگوں کے لیے تشریف رکھتے ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دن میں آنے کے متعلق ابھی عرض کیا جاچکا سفر کو جاتے وقت مسجد سے روانہ ہونا اور واپسی پر مسجد میں پہلے آنا اگر وقت کراہت نہ ہو تو ان دونوں موقعوں پر دو نفل نماز سفر یا نماز قدوم پڑھنا سب کچھ سنت ہے اس سے سفر میں بڑی برکتیں رہتی ہیں۔
۲
؎یعنی پہلے اہل مدینہ سے ملاقات فرماتے،ان کے دکھ درد سنتے،ان کے مقدمات کے فیصلے فرماتے،انہیں شرف زیارت بخشتے،پھر گھر میں تشریف لے جاتے۔طبرانی اور حاکم نے بروایت ثعلبہ حدیث نقل فرمائی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جب سفر سے تشریف لاتے تو پہلے مسجد سے ابتدا فرماتے پھر حضرت خاتون جنت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے پھر اپنے گھر۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3906