Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3902

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهٗ لَيْلًا وَكَانَ لَا يَدْخُلُ إِلَّا غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يطرق أهله ليلا وكان لا يدخل إلا غدوة أو عشية. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر رات میں سفر سے نہ آتے تھے ۱؎مگر صبح یا شام کے وقت ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ بغیر اطلاع اچانک رات میں مسافر کا گھر پہنچنا گھر والوں کی تکلیف کا باعث ہوتا ہے اور اس زمانہ میں خبر رسانی کے ذرائع بہت محدود تھے اب تو خط،تار ٹیلی فون وغیرہ سے خبر دی جاسکتی ہے۔یطرقبنا ہےطرقسے بمعنی دروازہ بجانا کواڑ کھڑکانا،چونکہ رات میں آنے پر اس کھڑکانے کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے رات میں آنے والے مسافر کو طارق کہتے ہیں ستارہ کو بھی طارق کہا جاتا ہے کہ وہ رات میں ہی چمکتا ہے۔ (مرقات)
۲
؎صبح صادق سے زوال تک کا وقتغدوہہے اور زوال سے سورج ڈوبتے تک کا وقتعشیہیعنی حضور کی مدینہ منورہ میں آمد یا صبح کے وقت ہوتی تھی یا بعد ظہر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3902