Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3910

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "الراكب شيطان، والراكبان شيطانان، والثلاثة ركب". رواه مالك والترمذي وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ۲؎اور تین سوار صحیح سوار ہیں ۳؎(مالک، ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جنگل میں اکیلا مسافر آفات کے نرغہ میں ہوتا ہے،نماز باجماعت سے محروم ہے،ضرورت کے وقت اسے مددگار کوئی نہ ملے گا،بلاؤں آفتوں کے خطرے میں ہے خصوصًا اس زمانہ پاک میں جب کہ راستے پر خطر تھے اب اس امن کے زمانہ میں بھی ریل کے ڈبہ میں اکیلے سفرکرنے والے چلتی ٹرین میں لٹ گئے حتی کہ حکومت نے انٹر کلاس کی زنانہ سواریوں کو اجازت دی کہ وہ رات میں اپنی تھرڈ کلاس کی سہیلی کو اپنے ساتھ انٹر میں بٹھا سکتی ہیں سرکار کے فرمان ہمیشہ ہی مفید ہیں۔
۲
؎یعنی دو مسافر بھی آفات کے خطرے میں ہیں کہ اگر ایک بیمار ہوجائے تو دوسرا بے یارومددگار رہ جائے۔
۳
؎یعنی تین مسافر ہیں جنہیں صحیح معنی میں قافلہ کہا جاوے۔رکباسم جمع ہے جیسےنفراوررھطاورصحباس لیے ارشاد ہوا کہ جماعت پرکا ہاتھ(رحمت)ہے۔اس فرمان عالی میں بھی بڑی حکمتیں ہیں سفر میں کسی کی رضا قضا واقع ہوجائے تو باقی اور دو آسانی سے اسے سنبھال سکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3910