Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3916

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَتَّخِذُوْا ظُهُوْرَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ، فَإِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُوْنُوْا بَالِغِيْهِ إِلَّا بِشِقِّ الأَنْفُسِ،وَجَعَلَ لَكُمُ الأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوْا حَاجَاتِكُمْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا تتخذوا ظهور دوابكم منابر، فإن الله تعالى إنما سخرها لكم لتبلغكم إلى بلد لم تكونوا بالغيه إلا بشق الأنفس،وجعل لكم الأرض فعليها فاقضوا حاجاتكم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا اپنے جانوروں کی پیٹھوں کو منبر نہ بناؤ ۱؎کیونکہتعالٰی نے انہیں اس لیے تمہارا تابع کیا ہے کہ تم کو اس شہر تک پہنچادیں جہاں تم بغیرسخت مشقت کے نہ پہنچتے ۲؎اور رب نے زمین تمہارے لیے ہی پیدا کی ہے تو تم زمین پر اپنی ضروريات پوری کرو ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بلاضرورت انہیں کھڑا کرکے ان پر سوار رہو اور لوگوں سے بات چیت تجارت وغیرہ کرتے رہو اس میں جانور کو بلا وجہ تکلیف دینا ہے یہ کام نیچے اترکر کرو ان پر صرف سفرکرو۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اونٹ پر قیام فرماکر عرفات شریف میں خطبہ دینا یا حجاج کا عرفات میں اونٹ پر قیام کرنا ضرورۃً ہے.
۲
؎یہاں بلاضرورت سوار رہنے سے ممانعت ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں اور ممکن ہے کہ یہ ممانعت اس صورت میں ہو جب جانور بہت دراز سفر کرکے آیا ہو تھکا ہوا ہو یا جب بوجہ قحط سالی کے جانور دبلے اور کمزور ہوں اور اجازت اس صورت میں ہوکہ جانورقوی اور تازہ دم ہوں۔و الله اعلم!۳؎یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے اور سب کے لیے بعض حالات میں حکم وجوبی ہے اور بعض حالات میں استحبابی ہے جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3916