- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3923
باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3923
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِيْ سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذٰلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَغَدَا أَصْحَابُهٗ وَقَالَ: أَتَخَلَّفُ وأُصَلِّيْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ، فَلَمَّا صَلَّى مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ فَقَالَ: "مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ؟ " فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَقَالَ: "لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيْعًا مَا أَدْرَكْتَ فَضْلَ غَدْوَتهِمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وعن ابن عباس قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم عبد الله بن رواحة في سرية فوافق ذلك يوم الجمعة، فغدا أصحابه وقال: أتخلف وأصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ألحقهم، فلما صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رآه فقال: "ما منعك أن تغدو مع أصحابك؟ " فقال: أردت أن أصلي معك ثم ألحقهم فقال: "لو أنفقت ما في الأرض جميعا ما أدركت فضل غدوتهم". رواه الترمذي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبدﷲابن رواحہ کو کسی فوج میں بھیجا ۱؎یہ جمعہ کے دن میں اتفاقًا واقع ہوا ۲؎تو ان کے ساتھی سویرے ہی چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ میں پیچھے رہ جاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر ان سے جاملوں گا۳؎تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پڑھی انہیں دیکھا ۴؎تو فرمایا تم کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح میں جانے سے کس چیز نے روکا تو عرض کیا کہ میں نے چاہا آپ کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر ان سے جا ملوں ۵؎فرمایا کہ اگر تم تمام زمینی چیزیں خیرات کردو تو بھی ان کے سویرے نکل جانے کا درجہ نہیں پاسکتے ۶؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت عبدﷲابن رواحہ انصاری خزرجی ہیں،بیعۃ عقبہ،بدر،احد،خندق اور تمام غزوات میں شریک رہے سوائے فتح مکہ کے کیونکہ آپ سن آٹھ میں غزوہ موتہ میں شہید ہوچکے تھے،آپ حضور کے شاعروں میں سے ہیں،حضرت حسان کی طرح نعت گو صحابہ ہیں غالبًا اس فوج کا افسر بناکر بھیجا گیا تھا۔جس لشکر میں حضور تشریف نہ لے جاویں وہ سریہ کہلاتا ہے۔بھیجا سے مراد ہے جانے کا حکم صادر فرمایا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎یعنی یہ حکم جمعہ کے دن صبح سویرے نکل جانے کا تھا اس طرح کہ جمعرات کے دن حکم ہوا کہ کل صبح سویرے فلاں فلاں حضرات اس طرف جہاد کے لیے چلے جاویں۔جمعہ کے دن اذان جمعہ سے پہلے سفر جائز ہے اگر حضور عین نماز کے وقت حکم دیں تو اس وقت نکل جانا ضروری۔
۳؎یہ آپ کا اجتہاد تھا آپ کا خیال تھا کہ صرف چند گھنٹے ٹھہر جانے میں مدینہ منورہ،مسجد نبوی اور حضور کے ساتھ جمعہ میسر ہوجائے،مدینہ پاک کی ایک نماز کا پچاس ہزار ثواب ہے پھر حضور انور (صلی اللہ علیہ و سلم) کے پیچھے نماز تو لاکھوں نمازوں سے بہتر ہے یہ فوائد جلد چلے جانے اور جنگل میں پہنچ کر بجائے نماز جمعہ ظہر ادا کرنے میں نہ حاصل ہوں گے اور اس ٹھہر جانے کی کسر میں نکال لوں گا کہ تیز سواری پر ان مجاہدین سے جا ملوں گا تعمیل ارشاد ہوجائے گی بہرحال نیت نہایت ہی اچھی تھی۔
۴؎اس طرح کہ نماز جمعہ کے بعد آپ خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ملے وداع ہونے کے لیے یا ویسے ہی برکت حاصل کرنے کے لیے جیسے آج کل بھی بعد نماز جمعہ بزرگوں سے ملاقات کی جاتی ہے۔
۵؎یعنی کسی دنیاوی کام کے لیے نہیں رکا ہوں اس لالچ میں ٹھہر گیا ہوں کہ ڈبل ثواب حاصل کروں آپ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کا اور جہاد میں جانے کا۔
۶؎یعنی اگر تم میرے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنے کے ساتھ ساری دنیا کا مال خیرات بھی کردو تو جو ثواب ان سویرے نکل جانے والوں کو تعمیل حکم کا ملا وہ تم کو ان تمام عبادات کا نہیں مل سکتا۔معلوم ہوا کہ حضور کی اطاعت تمام عبادات سے افضل ہے،ان کی اطاعت میں ترک جمعہ عبادت ہے بغیر اطاعت جمعہ کی نماز مسجد نبوی میں پڑھنا اعلیٰ عبادت نہیں۔شعر
معلوم ہوا کہ جملہ عبادات فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
ان کے در پر دم نکل جائے تو جی جائیں حسن ان کے در سے دور رہ کر زندگی اچھی نہیں
اس لیے صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ رضائے یار بہتر ہے لقاء یار سے دور رہیں مگر راضی رہیں یہ بہتر ہے اس سے کہ ہم قریب رہیں اور حضور ناراض رہیں۔شعر
لقائے دوست چہ خواہی رضاء دوست طلب کہ حیف باشد از وغیراو تمنائے
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3923