Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3908

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ صَخْرِ بْنِ وَدَاعَةَ الغَامِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِيْ فِيْ بُكُوْرِهَا" وَكَانَ إِذا بعثَ سريَّةً أوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ تَاجِرًا فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهٗ أَوَّلَ النَّهَارِ، فَأَثْرٰى وَكَثُرَ مالُهٗ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

عن صخر بن وداعة الغامدي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اللهم بارك لأمتي في بكورها" وكان إذا بعث سرية أو جيشا بعثهم من أول النهار، وكان صخر تاجرا فكان يبعث تجارته أول النهار، فأثرى وكثر ماله. رواه الترمذي وأبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صخر ابن وداعہ غامدی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے الٰہی میری امت کے صبح کے کاموں میں برکتیں دے ۲؎اور جب کوئی فوج یا لشکر بھیجتے تو شروع دن میں بھیجتے تھے۳؎اورصخر تاجر تھے تو وہ اپنا مال تجارت اول دن میں بھیجاکرتے تھے تو وہ بڑے امیر ہوگئے اور ان کا مال بہت بڑھ گیا۴؎(ترمذی،ابوداؤد، دارمی) ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام صخر ابن عمرو ابن عبداللہ ابن کعب ازدی ہے،آپ صحابی ہیں،طائف میں قیام رہا،شمار اہل حجاز سے ہے۔(مرقات اشعہ)
۲
؎یعنی میری امت کے تمام ان دینی و دنیاوی کاموں میں برکت دے جو وہ صبح سویرے کیا کرے جیسے سفر طلب علم تجارت وغیرہ۔
۳
؎یعنی حضور کی دعا وہ تھی جو ابھی بیان ہوئی اور عمل یہ تھا لہذا حضور کے دعاوعمل سے یہ وقت برکت والا ہے۔
۴
؎یعنی صحابہ کا تجربہ بھی اس کے متعلق ہوچکا ہے کہ وہ حضرات اس سنت پر عمل کی برکت سے بہت فائدے اٹھا چکے ہیں۔فقیر نے بھی تجربہ کیا کہ صبح سویرے کاموں میں بہت برکت ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ جو طالب علم مغرب و عشاء کے درمیان اور فجر کے وقت محنت کرے پھر عالم نہ بنے تو تعجب ہے اور جو طالب علم ان دو وقتوں میں محنت نہ کرے اور عالم بن جاوے تو بھی حیرت ہے۔
۵
؎ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابوہریرہ روایت کی الٰہی میری امت کے جمعرات کے دن صبح کے وقت کے کاموں میں برکت دے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3908