Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3909

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ، فَإِنَّ الأَرْضَ تُطْوٰى بِاللَّيْلِ". رَوَاهُ أَبَو دَاوُدَ.

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "عليكم بالدلجة، فإن الأرض تطوى بالليل". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم تاریکی شب میں سفر کیا کرو ۱؎کیونکہ رات میں زمین لپٹ جاتی ہے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اب بھی اہل عرب رات میں سفر زیادہ کرتے ہیں،سمندری جہاز رات میں تیز چلائے جاتے ہیں،تمام حجاج سے بعد نماز عشاء کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آرام کرو جیساکہ ہم نے تجربہ کیا۔دلجہرات کی اندھیری کو کہتے ہیں اسی سے ہےادلاج۔
۲
؎اس طرح کہ رات کا مسافر یہ ہی سمجھتا ہے کہ ابھی میں نے سفرکم کیا ہے مگر ہوجاتا ہے زیادہ۔اس فرمان عالی کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ رات میں بھی سفر کیا کرو صرف دن کے سفر پر قناعت نہ کیا کرو، بعض احادیث میں ہے کہ اول دن اور اول رات میں سفر کرو۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3909