Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3893

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ،مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهٗ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لو يعلم الناس ما في الوحدة ما أعلم،ما سار راكب بليل وحده". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر لوگ جانتے کہ تنہائی میں کیا نقصان ہیں ۱؎تو میں نہیں جانتا کہ کوئی سوار رات کو اکیلا چلتا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دینی و دنیاوی دونوں نقصان۔دینی نقصان تو یہ کہ اکیلا آدمی سفر میں جماعت نہیں کرسکتا۔دنیاوی نقصان یہ کہ اکیلے میں وحشت بھی ہوتی ہے،سفر کے ضروریات بھی پورے نہیں ہوتے،بیماری میں تو بہت ہی تکلیف ہوتی ہے،اگر موت واقع ہوجائے تو کوئی وطن میں خبر پہنچانے والا بھی نہیں ہوتا۔
۲
؎یعنی اگر اکیلے سفرکرنے کے نقصانات کما حقہ معلوم ہوں تو پیدل تو کیا سوار بھی اکیلے سفر کرنے کی جرات نہ کرے لہذا اس میں پیدل کو اکیلے سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔خیال رہے کہ اُس زمانہ میں راستے پر امن نہ تھے اکیلے سفر نہایت خطرناک تھا اب ریل ہوائی جہاز موٹروں کی وجہ سے وہ خطرے نہیں ہیں لہذا اب احکام نرم ہوں گے،نیز رات کا اکیلے سفر اس زمانہ میں زیادہ خطرناک تھا وہاں یہ مثل مشہور تھیاللیل اخفی بالویلاس لیے خصوصیت سے رات ہی میں سفر کا ذکر ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3893