Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3899

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهٗ وَطَعَامَهٗ وَشَرَابَهٗ، فَإِذَا قَضٰى نَهْمَتَهٗ مِنْ وَجْهِهٖ فَلْيَعْجَلْ إِلَى أَهْلِهٖ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "السفر قطعة من العذاب، يمنع أحدكم نومه وطعامه وشرابه، فإذا قضى نهمته من وجهه فليعجل إلى أهله". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سفر عذاب کا ٹکڑا ہے ۱؎تم میں سے ہر ایک کو اس کی نیند اس کے کھانے پینے سے روکتا ہے۲؎تو جب کوئی اس طرف سے اپنی حاجت پوری کرے۳؎تو اپنے گھر کی طرف جلدی کرے ۴؎(متفق علیہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں عذاب سے مراد تکلیف دہ ہے نہ کہ سزا کیونکہ بعض سفر تو ثواب ہیں جیسے سفر جہاد،سفر حج،سفر طلب علم وغیرہ مگر یہ سارے سفر تکلیف دہ ضرور ہیں جن میں وہ تکالیف ہوتی ہیں جو آگے مذکور ہیں۔
۲
؎یعنی عمومًا سفر میں انسان وقت پر کھانے،وقت پر سونے،وقت پر باجماعت نماز گھر کی طرح نہیں کرسکتا۔چنانچہ اب بھی یہ دیکھا جاتا ہے اگرچہ اب ریل،بس،ہوائی جہازوں کے سفر میں بڑی آسانیاں ہوچکی ہیں۔
۳
؎نہمہکے معنی ہیں بلوغالہمۃاوروجھہسے مراد اپنی سفر کی جہت ہے یعنی جس طرف سفر کرکے گیا تھا تو جس مقصد کے لیے گیا تھا سفر میں وہ مقصد پورا ہوجائے۔(مرقات)
۴
؎تاکہ نماز کی جماعتیں حقوق کی ادائیگی اچھی طرح سے ہوسکیں،بعض علماء نے فرمایا کہ دنیاوی سفروں کے لیے یہ فرمان ہے۔سفرحج و سفرجہاد وغیرہ کا یہ حکم نہیں مدینہ منورہ یا مکہ معظمہ میں جتنی حاضری نصیب ہوجائے بہتر ہے اسی لیے یہاںنھمتہفرمایا۔نہمہکہتے ہیں دنیاوی ضرورت و حاجت کو،فقیر اس کو ترجیح دیتا ہے،حاکم و بیہقی نے بروایت حضرت عائشہ بجائےنہمتہکےحجہروایت کی یعنی حج سے فارغ ہوکر جلد لوٹو جیساکہ مرقات میں ہے مگر مدینہ آخر مدینہ ہی ہے وہ تو ہر مؤمن کا دیس ہے پردیس ہے ہی نہیں جیسا سکون قلب اداء عبادات میں وہاں میسر ہوتا ہے گھرمیں میسر نہیں ہوتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3899