Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3914

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ ثَعْلَبَةَ الخُشَنيِّ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوْا مَنْزِلًا تَفَرَّقُوْا فِي الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِيْ هٰذِهِ الشِّعَابِ وَالأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذٰلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ". فَلَمْ يَنْزِلُوْا بَعْدَ ذٰلِكَ مَنْزِلًا إِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حتّٰى يُقَالَ: لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي ثعلبة الخشني قال: كان الناس إذا نزلوا منزلا تفرقوا في الشعاب والأودية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن تفرقكم في هذه الشعاب والأودية إنما ذلكم من الشيطان". فلم ينزلوا بعد ذلك منزلا إلا انضم بعضهم إلى بعض حتى يقال: لو بسط عليهم ثوب لعمهم. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابو ثعلبہ خشنی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ لوگ جب کسی منزل میں اترتے تو گھاٹیوں اور جنگلوں میں بکھر جاتے تھے ۲؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا ان گھاٹیوں میں اور جنگلوں میں بکھرا رہنا یہ کام شیطان سے ہے۳؎چنانچہ اس کے بعد مسلمان کسی منزل میں نہ اترے مگر اس حالت میں کہ بعض بعض سے ملے رہتے حتی کہ کہا جاتا اگر ان پر ایک کپڑا بچھا دیا جاتا تو ان پر پھیل جاتا ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام جرہم ہے،کنیت ابوثعلبہ مگر آپ کنیت میں مشہور ہیں،آپ بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،حضور انور نے آپ کو اپنی قوم خشن کی طرف مبلغ بنا کر بھیجا،آپ کی تبلیغ سے وہ سب لوگ مسلمان ہوگئے پھر آپ نے شام میں قیام اختیار کیا، ۷۵ھ؁ ∞ میں انتقال کیا۔(اشعہ) مگر زیادہ صحیح یہ ہے کہ ۵۵ھ؁ ∞ میں حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی رضی اللہ عنہما۔(مرقات و اشعہ)
۲
؎شعابجمع ہےشعبکی بمعنی گھاٹی یا پہاڑی راستہ یعنی حضرات صحابہ کرام دوران سفر میں جب کبھی عارضی قیام فرماتے تھے تو متفرق ہوکر کچھ حضرات کہیں کچھ کہیں۔
۳
؎یعنی تمہارے اس طرح بکھرنے سے شیطان کو موقع ملتا ہے کہ کفار سے تم پر چڑھائی کرادے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ یہ لوگ متفرق ہیں ان پر اچانک ٹوٹ پڑو یہ ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے اس طرح الگ الگ اترنا خطرناک ہے۔انما ذلکمتاکید کے لیے ہے جیسے جسمانی دوری خطرناک ہے ایسے ہی دلی دوری بھی شیطانی اثر سے ہوتی ہے اور سخت خطرناک رب تعالٰی مسلمانوں میں تنظیم اور یکجہتی نصیب کرے۔
۴
؎سبحان اﷲ!حضور نے مسلمانوں کے صرف جسموں کو یکجا نہ فرمایا بلکہ ان کے دلوں کو بھی یکجا کردیا مسلمان یک دل اور یک جان ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ مسافر منزل پر اکٹھے رہیں اس میں بہت فائدے ہیں۔ہر ایک ایک دوسرے سے خبردار رہتا ہے تعاون کرسکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3914