Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3918

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِيْ إِذْ جَاءَهٗ رَجُلٌ مَعَهٗ حِمَارٌ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اِرْكَبْ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهٗ لِيْ" قَالَ: جَعَلْتُهٗ لَكَ فَرَكِبَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن بريدة قال: بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي إذ جاءه رجل معه حمار فقال: يا رسول الله! اركب وتأخر الرجل،فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا، أنت أحق بصدر دابتك إلا أن تجعله لي" قال: جعلته لك فركب. رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پیدل چل رہے تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص آیا جس کے ساتھ گدھا تھا عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سوار ہو جاؤ اور خود پیچھے بیٹھ گیا ۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یعنی اپنے جانور کے سینہ کے تم زیادہ حق دار ہو مگر اس طرح کہ تم وہ حق میرے لیے کردو ۲؎اس نے عرض کیا میں نے حضور کو یہ حق دے دیا تب حضور سوار ہوئے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ پتہ نہ چلا کہ یہ کون سا سفر تھا بہرحال کوئی سفر ہو حضور انور اس میں پیدل تھے اس اعرابی نے چاہا کہ حضور کو آگے سوار کریں خود پیچھے بیٹھیں ادب کے لیے۔
۲
؎گردن سے قریب کا حصہ سینہ کہلاتا ہےاس فرمان عالی میں یہ تعلیم دی گئی کہ اگر ایک جانور پر دو شخص سوار ہوں تو آگے جانور کا مالک بیٹھے پیچھے دوسرا آدمی۔
۳
؎چونکہ جانور کا سینہ مالک کا اپنا حق ہے وہ چاہے جسے دے اس لیے حضور انور اس کی اجازت کے بعد آگے سوار ہوئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3918