Main Icon

باب :سفر کے آداب و طریقے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3922

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِيْ سَفَرٍ فعَرَّسَ بِلَيْل اضْطَجَعَ عَلٰى يَمِيْنِهٖ،وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْح نَصَبَ ذِرَاعَهٗ وَوَضَعَ رَأْسَهٗ عَلٰى كَفِّهٖ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن أبي قتادة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان في سفر فعرس بليل اضطجع على يمينه،وإذا عرس قبيل الصبح نصب ذراعه ووضع رأسه على كفه. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی سفر میں ہوتے پھر رات میں اترتے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹتے ۱؎اور جب صبح سے کچھ پہلے آرام کرتے تو اپنی کلائی کھڑی فرماتے اور اپنا سر اپنے ہاتھ پر رکھتے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دوران سفر میں کہیں منزل پر قیام فرماتے تو سونے کی نیت سے داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے جیسا کہ حضور انور کا دائمی طریقہ تھا کہ قبر کی رخ بستر ہوتا داہنا ہاتھ داہنے رخسارہ کے نیچے رکھتے داہنی کروٹ پر لیٹتے کہ اس طرح لیٹنے میں نیند غفلت کی نہیں آتی رات کو بہ آسانی اٹھا جاسکتا ہے۔اطباء بائیں کروٹ لینے کو اس لیے کہتے ہیں تاکہ نیند خوب آجائے اطباء کی نظر راحت بدن پر ہے حضور کی نظرپاک تہجد کے لیے اٹھنے پر تھی۔خیال رہے کہعرسسے بنا ہےتعریسسے بمعنی آخری شب کا نزول آخری شب کا آرام۔عرب میں عمومًا رات میں سفر کرتے تھے اول رات سفر آخر رات آرام۔
۲
؎اور لیٹ جاتے تاکہ کچھ تھکنی دور ہوجائے مگر نیند نہ آجائے کیونکہ نماز فجر کا وقت قریب ہے ہر جگہ نماز کا خیال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3922