Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2364

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَمَّا قَضَى اللّٰهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا، فَهُوَ عِنْدَهٗ فَوْقَ عَرْشِهٖ: إِنَّ رَحْمَتِيْ سَبَقَتْ غَضَبِيْ". وَفِي رِوَايَةٍ: "غَلَبَتْ غَضَبِيْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "لما قضى الله الخلق كتب كتابا، فهو عنده فوق عرشه: إن رحمتي سبقت غضبي". وفي رواية: "غلبت غضبي". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جبنے مخلوق پیدا فرمانے کا فیصلہ کیا ۱؎تو ایک تحریر لکھی جو رب کے پاس عرش کے اوپر ہے ۲؎کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے اور ایک روایت میںغلبتہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ مخلوق کو پیدا فرمادیا یا پیدا فرمانے کی ابتداء کی یا موجودات کے ظہور کا ارادہ قریب کیا یا جب میثاق کے دن تمام روحوں کو پیدا کیا۔
۲
؎کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے اورلکھنے سے مراد لکھنے کا حکم دینا ہے فرشتوں کو یا قلم کو ۔عرش کے اوپر سے مراد درجہ و مرتبہ میں اوپر ہے نہ کہ جگہ میں کیونکہ لوح محفوظ عرش کے نیچے ہے نہ کہ اس کے اوپر ۔بعض علماء نے فرمایا کہ لوح محفوظ حضرت اسرافیل علیہ السلام کی پیشانی ہے کہ اس میں سارے حالات درج ہیں اور حضرت اسرافیل حاملین عرش فرشتوں کے سردار ہیں،اس کے متعلق اور بہت سے قول ہیں۔(مرقات وغیرہ)
۳
؎اس طرح کہ آثار غضب پر آثار رحمت غالب بھی ہیں اور زیادہ بھی ورنہ خود رحمت و غضب رب تعالٰی کی صفتیں ہیں،وہاں زیادتی کمی اور غالبت مغلوبیت ناممکن ہے۔مطلب یہ ہے کہ میری رحمت کا ظہور بمقابلہ غضب بہت زیادہ ہوگا۔چنانچہ رب تعالٰی کی رحمت تمام مخلوق کو پہنچتی ہے اور غضب کسی کسی کو کفار بھی رب کی رحمت ہی سے روزی پاتے ہیں،بلاؤں سے محفوظ رہتے ہیں۔چنانچہ رحمت کے بارے میں خودفرماتا:"وَ رَحْمَتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡءٍ"اور عذاب کے بارے میں فرماتاہے:"عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُ"۔(از لمعات مع زیادۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2364