Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2370

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: "قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ؛ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْي قَدْ تَحَلَّبَ ثَدْيُهَا تَسْعٰى، إِذْ وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْي، أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَتُرَوْنَ هٰذِهٖ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟ فَقُلْنَا: لَا،وَهِيَ تَقْدِرُ عَلٰى أَنْ لَا تَطْرَحَهٗ، فَقَالَ: لَلّٰهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهٖ مِنْ هٰذِهٖ بِوَلَدِهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عمر بن الخطاب قال: "قدم على النبي صلى الله عليه وسلم سبي؛ فإذا امرأة من السبي قد تحلب ثديها تسعى، إذ وجدت صبيا في السبي، أخذته فألصقته ببطنها وأرضعته، فقال لنا النبي --صلى الله عليه وسلم-: أترون هذه طارحة ولدها في النار؟ فقلنا: لا،وهي تقدر على أن لا تطرحه، فقال: لله أرحم بعباده من هذه بولدها". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر کچھ قیدی آئے تو قیدیوں میں ایک عورت کی چھاتیاں دودھ سے چھلک رہی تھیں ۱؎وہ دوڑ رہی تھی جب قیدیوں میں کوئی بچہ پاتی اسے پکڑتی اپنے پیٹ سے چمٹا لیتی اور اسے دودھ پلادیتی ۲؎تب ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم یہ خیال کرسکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں پھینک دے ہم نے عرض کیا اگر وہ پھینکنے پر قادر ہو تو کبھی نہ پھینکے فرمایاتعالٰی اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ اپنے بچے پر۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ اس کا بچہ اس سے جدا ہوچکا تھا اور یہ نئی والدہ تھی۔تحلب حلبسے بنا جس کے معنے ہیں دودھ دوہنا،یہاں دودھ کی وہ کثرت مراد ہے جسے پستان نہ سنبھال سکیں اور دودھ ٹپکنے لگے۔
۲
؎تاکہ دودھ کا جوش کچھ کم ہوجائے،نیز وہ اپنے بچہ کو یادکرکے دوسرے بچوں پرمہربانی کرتی تھی۔(مرقات)
۳
؎جیسے ماں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ آگ میں جلے ایسے ہی رب تعالٰی نہیں چاہتا کہ میرا بندہ آگ میں جلے وہ تو ماں سے زیادہ مہربان ہے۔خیال رہے کہ یہاں چاہنا بمعنی راضی ہونا ہے نہ کہ بمعنی ارادہ کرنا رب تعالٰی نہ کفر سے راضی ہے نہ فسق سے،دنیا کا ہر کام رب تعالٰی کے ارادے سے ہے نہ کہ اس کی رضا سے،لوگ اپنی حرکتوں سے دوزخ میں جاتے ہیں رب تعالٰی ان کے اس جانے سے راضی نہیں لہذا حدیث صاف ہے اس پر مسئلۂ تقدیر کے اعتراضات نہیں پڑ سکتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2370