Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2379

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللّٰهِ فَلَا يَزَالُ بِذٰلِكَ، فَيَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجبْرِيْلَ: إِنَّ فُلَانًا عَبْدِي يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِيْ، أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِيْ عَلَيْهِ، فَيَقُوْلُ جِبْرِيلُ: رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلٰى فُلَانٍ وَيَقُوْلُهَا حَمَلَةُ الْعَرْشِ، وَيَقُوْلُهَا مَنْ حَوْلَهٗ، حَتّٰى يَقُوْلَهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ الى الأَرْضِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن العبد ليلتمس مرضاة الله فلا يزال بذلك، فيقول الله عز وجل لجبريل: إن فلانا عبدي يلتمس أن يرضيني، ألا وإن رحمتي عليه، فيقول جبريل: رحمة الله على فلان ويقولها حملة العرش، ويقولها من حوله، حتى يقولها أهل السماوات السبع، ثم تهبط له الى الأرض". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا کہ بندہکی رضا تلاش کرتا رہتا ہے اسی جستجو میں رہتا ہے ۱؎اللہ تعالٰی حضرت جبریل سے فرماتا ہے کہ فلاں میرا بندہ مجھے راضی کرنا چاہتا ہے مطلع رہو کہ اس پر میری رحمت ہے ۲؎تب حضرت جبرائیل کہتے ہیں فلاں پر اللہ کی رحمت ہے،یہ ہی بات حاملین عرش فرشتے کہتے ہیں یہ ہی ان کے اردگرد کے فرشتے کہتے ہیں حتی کہ ساتویں آسمان والے یہ کہنے لگتے ہیں ۳؎پھر یہ رحمت اس کے لیے زمین پر نازل ہوتی ہے ۴؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ اپنے دینی و دنیاوی کاموں سے رب تعالٰی کی رضا چاہتا ہے کہ کھاتا پیتا،سوتا جاگتا بھی ہے تو رضائے الٰہی کیلئے نماز و روزہ تو بہت ہی دور ہے خدا تعالٰی اس کی توفیق نصیب کرے۔
۲
؎یعنی اس پر میری کامل رحمت ہے اس طرح کہ میں اس سے راضی ہوگیا۔خیال رہے کہ اللہ کی رضا تمام نعمتوں سے اعلی نعمت ہے،جب رب تعالٰی بندے سے راضی ہوگیا تو کونین بندے کے ہوگئے،رب تعالٰی فرماتاہے:"رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ" پھر بندے پر وہ وقت آتا ہے کہ رب تعالٰی بندے کو راضی کرتا ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے متعلق فرماتا ہے"ولسوف یرضی" اللہ تعالٰی صدیق کو اتنا دے گا کہ وہ راضی ہوجائیں گے۔
۳
؎غرضکہ آسمانوں میں اس کے نام کی دھوم مچ جاتی،شور مچ جاتا ہے کہ رحمۃ اللہ علیہ یہ کلمہ دعائیہ ہے،یعنی اللہ تعالٰی اس پر رحمت کرے،یہ دعا یا تو فرشتوں کی محبت کی وجہ سے ہوتی ہے یا خود وہ فرشتے اپنا قرب الٰہی بڑھانے کے لیے یہ دعائیں دیتے ہیں اچھوں کی دعائیں دینا قرب الٰہی کا ذریعہ ہے جیسے ہمارا درود شریف پڑھنا۔شعر
قلب کی حالت غنچہ بستہ اس کوکرم سےکردوشگفتہ
دے دعائیں حافظ خستہ صلی اللہ علیہ وسلم
۴
؎اس طرح کہ قدرتی طور پر انسانوں کے منہ سے اس کے لیے نکلنے لگتا ہے رحمۃ اللہ علیہ یا رضی اللہ عنہ اور لوگوں کے دل خود بخود اس کی طرف کھنچنے لگتے ہیں،دلوں کی قدرتی کشش محبوبیت الٰہی کی دلیل ہے۔دیکھئے حضور غوث پاک خواجہ اجمیری جسے بزرگوں کو ہم لوگوں نے دیکھا نہیں مگر سب کو ان سے دلی محبت ہے۔مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالٰی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل سے فرماتا ہے میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو،حضرت جبریل آسمانوں میں اعلان کردیتے ہیں کہ فلاں سے اللہ تعالٰی محبت کرتا ہے،آپ سب بھی اس سے محبت کریں،چنانچہ تمام فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین میں اس کی مقبولیت پھیلادی جاتی ہے،یہ حدیث اس کے قریب ہی قریب ہے یہ غیبی وقدرت محبت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2379