Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2373

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أَسْلَمَ الْعَبْدُ فَحَسُنَ إِسْلَامُهٗ يُكَفِّرُ اللّٰهُ عَنْهُ كُلَّ سَيِّئَةٍ كَانَ زَلَّفَهَا،وَكَانَ بَعْدُ الْقِصَاصُ، الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلٰى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلٰى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا إِلَّا أَنْ يَتَجَاوَزَ اللّٰهُ عَنْهَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا أسلم العبد فحسن إسلامه يكفر الله عنه كل سيئة كان زلفها،وكان بعد القصاص، الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف إلى أضعاف كثيرة، والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عنها". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نےجب بندہ مسلمان ہو اور اس کا اسلام اچھا ہو۱؎توتعالٰی اس کے سارے کئے ہوئے گناہ مٹا دیتا ہے ۲؎اس کے بعد قصاص ہوتا رہتا ہے ۳؎کہ نیکی تو دس گنے سے لے کرسات سو گنا بلکہ بہت زیادہ گنا تک ہے ۴؎اور گناہ اس کے برابر مگر یہ کہتعالٰی معافی دیدے ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ اخلاص کےساتھ دل سے مسلمان ہو منافقت سے کلمہ نہ پڑھے۔
۲
؎زمانۂ کفر کے سارے گناہ اسلام سے ختم ہوجاتے ہیں حقوق العباد معاف نہیں ہوتے لہذا زمانۂ کفر کے قرض، ظلمًا قتل وغیرہ اس کے ذمہ رہیں گے اسی لیے سیئہ فرمایا گیا۔معلوم ہوا کہ زمانۂ کفر کی نیکیاں برباد نہیں ہوتیں بلکہ اسلام کے بعد وہ قبول ہوجاتی ہیں۔
۳
؎یعنی مسلمان ہوچکنے کے بعد بدلہ ہوا کرے گا اس بدلے کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
۴
؎یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے"مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ"اور"مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ" الخ۔ زمانہ کفر کے سارے گناہ اسلام سے ختم ہوجاتے ہیں حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔
۵
؎یہ رب تعالٰی کا فضل ہے کہ ایک نیکی پر سات سو بلکہ اس سے زیادہ تک جزاء اور ایک گناہ کی جزاء صرف ایک۔مگر خیال رہے کہ جیسا گناہ ویسی جزاء،بعض گناہ وہ ہیں جن سے نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں۔غرضکہ گناہ کی سزا مقدار میں نہ بڑھے گی۔رہی کیفیت اس میں فرق ہوگا،پھر رب کی معافی کی دو صورتیں ہیں:یا تو بندوں کو توبہ کی توفیق دے دی جائے یا بغیر توبہ ویسے ہی بخش دیا جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2373