Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2371

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهٗ، قَالُوْا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ مِنْهُ بِرَحْمَتِهٖ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا،وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْا وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوْا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "لن ينجي أحدا منكم عمله، قالوا: ولا أنت يا رسول الله، قال: ولا أنا، إلا أن يتغمدني الله منه برحمته، فسددوا وقاربوا،واغدوا وروحوا وشيء من الدلجة، والقصد القصد تبلغوا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے سکے گا۱؎لوگوں نے عرض کیا نہ آپ کو یارسول اللہ ۲؎فرمایا نہ مجھے مگر یہ کہ اللہ مجھے مہربانی سے اپنی رحمت میں چھپالے ۳؎لہذا ٹھیک رہو میانہ رو رہو اور صبح شام اور کچھ اندھیری رات میں نیکیاں کرلیا کرو میانہ رو رہو میانہ رو رہو پہنچ جاؤ ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نیک اعمال دوزخ سے بچنے،جنت میں داخل ہونے کے اسباب تو ہیں مگر علت تامہ نہیں۔بہت سے لوگ بغیر نیک عمل جنتی ہیں جیسے مسلمانوں کے ناسمجھ بچے یا دیوانے یا وہ جو مسلمان ہوتے ہی فوت ہوجائیں اور بعض لوگ نیکیوں کے باوجود دوزخی ہیں جیسے نیکیاں کرنے والے کفار یا جن کی نیکیاں مردود ہوگئیں۔ جنت ملنے کی علت تامہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے،محض تخم درخت کی علت تامہ نہیں بہت بارتخم ضائع ہوجاتاہے۔ اس فرمان کا مقصد لوگوں کو نیکیوں سے روکنا نہیں ہے بلکہ نیکوں کو اپنے اعمال پر ناز کرنے سے بچانا ہے کہ اے پرہیزگارو اپنے اعمال پرغرور نہ کرو،رب تعالٰی کا فضل مانگو شیطان کے اعمال سے،اس کے انجام سے سبق لو۔
۲
؎یعنی آپ کی نیکیاں تو قبولیت کی انتہائی منزل پر ہیں کیا یہ بھی حصول جنت کے لیے کافی وافی نہیں،کیا آپ کو بھی اللہ کی رحمت درکار ہے۔صحابہ سمجھے یہ تھے کہ ایسے موقعہ پر متکلم مستثنٰی ہوتا ہے شاید حضور یہ ہمارے لیے فرمارہے ہیں اس لیے یہ سوال کیا۔ اس سوال سے معلوم ہوتاہے کہ صحابہ عمومی احکام پرحضور کو داخل نہ مانتے تھے۔
۳
؎یتغمدنی غمدسے بنا،بمعنی غلاف تلوار جو ہرطرف سے تلوار کو چھپائے ہوتا ہے یعنی میں بھی محض عمل سے بلافضل الٰہی جنت کا حقدار نہیں،ہاں رب تعالٰی کی رحمت ہر طرف سے مجھے گھیرے تو جنت میر ی ہے۔ خیال رہے کہ تمام دنیا کے لئےحضورانور صلی اللہ علیہ وسلم رحمت ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ"اور رحمت الٰہی جنت ملنے کا ذریعہ ہے تو ہماری جنت کا وسلیہ عظمی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پر خود رب تعالٰی کا فضل ربانی ہے: "وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا"لہذا ہم اور رحمت سےجنتی ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم دوسری رحمت سے،سورج و چاند دونوں کو نور رب نے دیا مگر چاند کو سورج کے ذریعہ اور سورج کو بلاواسطہ اپنی طرف سے لہذا اس حدیث سے حضور کا ہماری مثل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
۴
؎اس طرح کہ عقائد درست رکھو،عبادات میں درمیانی روش چلو کہ بقدر طاقت نوافل شروع کرو پھر ہمیشہ نبھادو اور صرف فرائض پر کفایت نہ کرو بلکہ نوافل بھی ادا کیا کرو خصوصًا آخری رات میں عبادت کیا کرو کہ یہ چیزیں رحمت الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ جنت کا ذریعہ رحمت الٰہی ہے اور رحمت کا ذریعہ نیک اعمال ہیں لہذا اعمال سے غافل نہ ہو منزل قریب ہے۔ خیال رہے کہ رات میں سفر زیادہ طے ہوجاتا ہے ایسے مسافر آخر رات کے لیے رات کی عبادت سے جلد منزل مقصود پرپہنچ جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2371