Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2365

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ للَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُوْنَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُوْنَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلٰى وَلَدِهَا، وَأَخَّرَ اللّٰهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "إن لله مائة رحمة، أنزل منها رحمة واحدة بين الجن والإنس والبهائم والهوام، فبها يتعاطفون، وبها يتراحمون، وبها تعطف الوحش على ولدها، وأخر الله تسعا وتسعين رحمة يرحم بها عباده يوم القيامة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ کی سو رحمتیں ہیں ۱؎جن میں سے ایک رحمت جن انسان،جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اتاری جس سے یہ آپس میں ایک دوسرے پر مہربانی اور رحم کرتے ہیں ۲؎اس رحمت سے وحشی جانور اپنے بچے پر مہربان ہوتے ہیں ۳؎اور ننانوے رحمتیں محفوظ رکھ چھوڑی ہیں جن سے اللہ تعالٰی قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا ۴؎مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اللہ تعالٰی کی رحمت سو قسم کی ہے یا سینکڑوں قسم کی جن میں سے ہر قسم کے ماتحت ہزارہا انواع ہیں،ہر نوع کے نیچے ہزاروں صنفیں ہیں اور ہر صنف کے تحت ہزارہا افراد۔غرضکہ یہ حدیث حد بندی(تحدید)کے لیے بلکہ تکثیر و زیادت کے لیے ہے۔
۲
؎یعنی ان سینکڑوں اقسام میں سے ایک قسم یا کروڑوں افراد میں سے ایک فرد دنیا میں بندوں میں بانٹ دی گئی ہے جس کے حصے ہوکر ماں باپ،بہن بھائی،قرابت دار دوستوں کو ملے۔
۳
؎وحشی جانوروں کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ ان میں الفت و محبت کم ہے نفرت و غضب زیادہ یعنی وحشی درندے بھی اس رحمت کے حصے سے اپنے بچوں پر مہربان ہیں۔اگر رب تعالٰی ماں کے دل میں محبت پیدا نہ کرے تو وہ اپنے بچوں پر ہرگز مہربان نہ ہو جیسے ناگن اور مچھلی کہ ناگن تو اپنے بچوں کو کھا جاتی ہے،مچھلی اپنے بچوں کو پہچانتی بھی نہیں اور اگر رب محبت پیدا فرما دے تو پتھر اور درخت محبت کرنے لگیں، دیکھو احد پہاڑ حضور سے محبت کرتا ہے،درخت گھاس پھوس حضور پر نثار ہیں۔(صلی اللہ علیہ وسلم)
۴
؎بندوں سے مراد مؤمن بندے ہیں اور ننانوے کا عدد تحدید کے لیے بلکہ زیادتی کے لیے ہے یا یہ مقصد ہے کہ ایک قسم کی رحمت کا ظہور تو دنیا میں ہورہا ہے اور ننانوے قسم کی رحمت کی جلوہ گری آخرت میں ہوگی لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ روزانہ کعبہ معظمہ پر ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں جن سے ساٹھ طواف کرنے والوں پر،چالیس وہاں نماز پڑھنے والوں پر اور بیس رحمتیں کعبہ کو دیکھنے والوں پر۔(ازمرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2365