Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2374

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ --صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَهٗ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَهٗ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلٰى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلٰى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهٗ عِنْدَهٗ حَسَنَةً كَامِلَةً، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللّٰهُ لَهٗ سَيِّئَةً وَاحِدَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله --صلى الله عليه وسلم-: "إن الله كتب الحسنات والسيئات، فمن هم بحسنة فلم يعملها كتبها الله له عنده حسنة كاملة، فإن هم بها فعملها كتبها الله له عنده عشر حسنات إلى سبع مائة ضعف إلى أضعاف كثيرة، ومن هم بسيئة فلم يعملها كتبها الله له عنده حسنة كاملة، فإن هو هم بها فعملها كتبها الله له سيئة واحدة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہتعالٰی نے نیکیاں اور گناہ تحریر فرما دیئے ہیں ۱؎تو جو نیکی کا ارادہ کرے مگر کرے نہیں تو اسےاپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھتا ہے ۲؎پھر اگر قصد کرے اور نیکی کرے تو اسے اپنے ہاں دس سے سات سو گنا تک بلکہ بہت زیادہ گنا تک لکھ لیتا ہے ۳؎اور جو گناہ کا ارادہ کرے پھر کرے نہیں تو اس کے لیے بھیتعالٰی ایک پوری نیکی لکھ لیتا ہے ۴؎پھر اگر گناہ کا ارادہ کرے پھر کر بھی لے تو اسےتعالٰی ایک گناہ لکھتا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ رب کے حکم سے فرشتوں نے لوح محفوظ میں یا بندے کی تقدیر میں تحریر فرمادیئے یا نامہ اعمال لکھنے والا فرشتہ لکھتا رہتا ہے۔خیال رہے کہ نیکی ہر وہ عمل ہے جو ثواب کا باعث ہوا اور گناہ ہر وہ عمل ہے جو عذاب کا سبب ہے لہذا ممنوعہ وقتوں میں نماز پڑھنا گناہ ہے اور حضور پر نمازیں یا جان فدا کردینا ثواب ہے کبھی قضا نیکی ہوجاتی ہے اور ادا گناہ۔
۲
؎معلوم ہوا کہ نیکی کا ارادہ بھی نیکی ہے اس پر بھی ثواب ہے مگر ثواب اور چیز ہے اداء فرض اور چیز لہذا صرف ارادہ سے فرض ادا نہ ہوگا۔
۳
؎یہ ثوابوں کا فرق کہ کسی کو ایک نیکی کا ثواب دس گنا،کسی کو سات سو گنا،کسی کو اس سے بھی زیادہ،عامل کی نیت عمل کے موقع ومحل سے ہے اکیلے نماز کا اور ثواب ہے باجماعت نماز کا کچھ اور۔
۴
؎خیال رہے کہ خیال گناہ اور ہے اور گناہ کا پکا ارادہ کچھ اور پختہ ارادہ کرلینے پر انسان گنہگار ہوجاتا ہے۔یہاں خیال گناہ کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ جب دو مسلمان لڑیں اور ایک مارا جائے تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی کیونکہ مقتول نے بھی قتل کا ارادہ کیا تھا اگرچہ پورا نہ کرسکاکہ وہاں گناہ کا عزم بالجزم مراد ہے،ایسے ہی جو چوری کرنے کا پورا ارادہ کرے مگر موقعہ نہ پائے وہ بھی گنہگار ہوگیا،جو کفر کا ارادہ کرے وہ کافر ہوگیا لہذا حدیث واضح ہے۔خیال گناہ،گناہ نہیں بلکہ بعد میں اس خیال سے توبہ کرلینا نیکی ہے۔
۵
؎اس سے معلوم ہورہا ہے کہ بغیر ارادہ گناہ صادر ہوجانا گناہ نہیں گناہ میں قصد و ارادہ عذاب کا باعث ہے اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمل اور ارادہ دونوں کا ذکر فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2374