Main Icon

باب :گزشتہ بابوں کے تتمات و لواحق کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2378

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهٖ فَمَرَّ بِقَوْمٍ فَقَالَ: "مَنِ الْقَوْمُ؟ " قَالُوْا: نَحْنُ الْمُسْلِمُوْنَ. وَامْرَأَةٌ تَحْضِبُ بِقِدْرِهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا، فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجٌ تَنَحَّتْ بِهٖ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قَالَتْ: بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللّٰهُ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ: "بَلٰى"، قَالَتْ: أَلَيْسَ اللّٰهُ أَرْحَمَ بِعِبَادِهٖ مِنَ الأُمِّ بِوَلَدِهَا؟ قَالَ: "بَلٰى"، قَالَتْ: إِنَّ الأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ، فَأَكَبَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ إِلَيْهَا فَقَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهٖ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللّٰهِ، وَأَبَى أَنْ يَقُوْلَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

عن عبد الله بن عمر قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض غزواته فمر بقوم فقال: "من القوم؟ " قالوا: نحن المسلمون. وامرأة تحضب بقدرها ومعها ابن لها، فإذا ارتفع وهج تنحت به، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: أنت رسول الله؟ قال: "نعم"، قالت: بأبي أنت وأمي أليس الله أرحم الراحمين؟ قال: "بلى"، قالت: أليس الله أرحم بعباده من الأم بولدها؟ قال: "بلى"، قالت: إن الأم لا تلقي ولدها في النار، فأكب رسول الله صلى الله عليه وسلم يبكي، ثم رفع رأسه إليها فقال: "إن الله لا يعذب من عباده إلا المارد المتمرد الذي يتمرد على الله، وأبى أن يقول لا إله إلا الله". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم بعض جہادوں میں نبی کریم کے ساتھ تھے حضور انور ایک قوم پر گزرے پوچھا تم کون قوم۱؎ہو وہ بولے ہم لوگ مسلمان ہیں ایک عورت ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہی تھی ۲؎جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا جب آگ بھڑک کر اونچی ہوتی تو عورت بچہ کو دور ہٹا دیتی ۳؎وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی بولی کیا آپ رسول اللہ ہیں ۴؎فرمایا ہاں بولی میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا اللہ تمام رحم والوں سے بڑھ کر رحیم نہیں ۵؎فرمایا ہاں بولی کیا اللہ اپنے بندوں پر ماں کے اپنے بچہ سے زیادہ مہربان نہیں ۶؎فرمایا ہاں ۷؎تو بولی کہ ماں تو اپنے بچہ کو آگ میں نہیں ڈالتی ۸؎اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سرجھکالیا بہت روئے پھر سر مبارک اس کی طرف اٹھا کر فرمایا اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں صرف سرکش متکبر ہی کو عذاب دے گا جو اللہ تعالٰی پر سرکشی کرے اورلا الہ الا اللهکہنے سے انکاری ہو ۹؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎مسلمان ہو یا کفار غالبًا ان پر کوئی علامت موجود نہ تھی اسی لیے ان لوگوں نے جواب میںمسلمونفرمایا،یہ نہ کہا کہ ہم قریشی یا نضری ہیں۔خیال رہے کہ پوچھنا بے علمی کی دلیل نہیں،اس پوچھنے میں اور بہت سی مصلحتیں ہوتی ہیں،رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلا م سے پوچھا تھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔
۲
؎تحصب حصبسے بنا،حصبآگ روشن کرنے کو بھی کہتے ہیں اور ان تیلیوں و ایندھن کو بھی جس سے آگ سلگائی جائے، رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَؕ"تم اور تمہارے جھوٹے معبود دوزخ کا ایندھن ہیں۔
۳
؎یعنی اس عورت کا ایک بچہ جو گھٹنوں چلتا تھا بار بار آگ کو کھلونا سمجھ کر دیگچی کے پاس آجاتا اور آگ کو پکڑنا چاہتا مگر عورت بار بار دور بٹھا آتی۔
۴
؎معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اس سے پہلے کبھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت نہ کی تھی اور آج حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے انوار خوشبو وغیرہ دیکھ کر آپ کو پہچان گئی اسی لیے کسی دوسرے سے اس نے یہ سوال نہ کیا۔
۵
؎یعنی مخلوق میں بہت رحم کرنے والے ہیں ماں باپ،استاد،سلاطین،مگر رب تعالٰی تمام سے زیادہ مہربان ہے یہ عرض آئندہ سوال کی تمہید ہے۔
۶
؎چونکہ ماں سب سے زیادہ مہربان ہے،اسی لیے اس نے ماں کے متعلق خصوصیت سے سوال کیا ورنہ یہ سوال بھی پچھلے سوال میں آگیا تھا اور راحمین میں ماں بھی شامل تھی۔
۷
؎چنانچہ ملاحظہ فرمالیجئے کہ میں بچہ کی وجہ سے بار بار چولہا چھوڑتی ہوں اور بچے کو دور بٹھا آتی ہوں پھر رب تعالٰی اپنے بندوں کو دوزخ میں کیوں بھیجے گاسبحان الله !کیسا پیار ا سوال ہے۔
۸
؎حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ رونا اس عورت کی مامتا دیکھ کر اور پھر رب کی رحمت یاد فرما کر تھا،رونا کبھی خوف سے ہوتا ہے،کبھی شوق سے ،کبھی ذوق سے ،کبھی جوش سے ۔یہ رونا جوش سے تھا جو اللہ کی رحمت یاد آکر پیدا ہوا اور اس یاد کی وجہ عورت کے حال کا ملاحظہ فرمانا تھا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ یہ رونا کیوں تھا۔
۹
؎خلاصہ یہ ہے کہ عذاب صرف کفار کو ہوگا وہ بھی ان کے اپنے قصور و سرکشی سے جیسے مہربان ماں نالائق و سرکش بیٹے کو عاق کرکے نکال دیتی ہے،رہے گنہگار مسلمان،انہیں دوزخ میں کچھ روز کے لیے ڈالنا تعذیب نہیں بلکہ تہذیب ہے یعنی ان کی صفائی کرکے انہیں جنت کے لائق بنانا،جیسے سونے کو آگ میں تپا کر زیور بنا کر محبوب کے گلے کے لائق بنایا جاتا ہے،تو یہ آگ گویا نالائق کے لیے رحمت ہوگی ماں گندگی میں بھرے ہوئے بچے کو سخت سردی میں نہلاتی دھلاتی ہے جس سے بچے کو تکلیف ہوتی ہے مگر اس سے اسے صفائی میسر ہوجاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2378