Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2592

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهٗ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلٰى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هٰذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُّ فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنكَرُ عَلَيْهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن محمد بن أبي بكر الثقفي أنه سأل أنس بن مالك وهما غاديان من منى إلى عرفة: كيف كنتم تصنعون في هذا اليوم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: كان يهل منا المهل فلا ينكر عليه ويكبر المكبر منا فلا ينكر عليه(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن ابی بکر ثقفی سے کہ انہوں نے منٰی سے عرفہ جاتے ہوئے حضرت انس ابن مالک سے پوچھا کہ آپ حضرات اس دن میں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ہمراہ کیا کہا کرتے تھے ۱؎تو وہ بولے کہ ہم میں تلبیہ کہنے والالبیكکہتا تھا اور اس پر اعتراض نہ ہوتا تھا اور ہم میں سے تکبیر والا اللّٰه اکبر کہتا تھا اس پر اعتراض نہ ہوتا تھا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎شاید سائل کا خیال تھا کہ حجاج کو عرفات پہنچ کر کوئی خاص عبادت کرنا ہوتی ہوگی اس لیے یہ سوال کیا حالانکہ کچھ پڑھنے کا نام حج نہیں ہے بلکہ حاجی کا اس دن میں اس جگہ پہنچ جانے کا نام حج ہے۔
۲
؎عرفہ میں حاجیوں کا تلبیہ کہنا سنت ہے اور تکبیر کہنا جائز،تلبیہ دسویں بقرعید جمرہ عقبی کی رمی پر ختم ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ نماز پنج گانہ کے بعدتکبیرتشریق کہنا اور جگہ واجب ہے عرفات میں نہیں۔(مرقات)لہذا صحابہ کرام کا یہ تکبیرکہنا ذکر اللّٰه کی بناء پرتھا،یہ تکبیر تشریق نہ تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2592