Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2603

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهٖ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» . قَالَ: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهٗ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلٰى مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَهٗ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هٰذِهٖ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللّٰهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّ عَدُوَّ اللّٰهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأُمَّتِي، أَخَذَ التُّرَابَ، فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلٰى رَأْسِهٖ وَيَدْعُو بِالوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهٖ » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي: كِتَابِ "الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ" نَحْوَهٗ.

وعن عباس بن مرداس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا لأمته عشية عرفة بالمغفرة فأجيب: «إني قد غفرت لهم ما خلا المظالم فإني آخذ للمظلوم منه» . قال: «أي رب إن شئت أعطيت المظلوم من الجنة وغفرت للظالم» فلم يجب عشيته فلما أصبح بالمزدلفة أعاد الدعاء فأجيب إلى ما سأل. قال: فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم أو قال تبسم فقال له أبو بكر وعمر: بأبي أنت وأمي إن هذه لساعة ما كنت تضحك فيها فما الذي أضحكك أضحك الله سنك؟ قال: «إن عدو الله إبليس لما علم أن الله عز وجل قد استجاب دعائي وغفر لأمتي، أخذ التراب، فجعل يحثوه على رأسه ويدعو بالويل والثبور فأضحكني ما رأيت من جزعه » . رواه ابن ماجه وروى البيهقي في: كتاب "البعث والنشور" نحوه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عباس ابن مرداس سے ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عرفہ کی شام اپنی امت کے لیے دعائے مغفرت کی ۲؎تو جواب ملا کہ حقوق العباد کے سوا باقی گناہ بخش دیئے مظلوم کا حق تو لوں گا ۳؎عرض کیا یارب اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے دے اور ظالم کو بخش دے ۴؎اس شام کو تو جواب نہ ملا مگر جب مزدلفہ میں حضور نے صبح کی تو وہ ہی دعا دوبارہ کی تب آپ کا سوال پورا کیا گیا ۵؎راوی فرماتے ہیں تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ہنسے یا مسکرائے ۶؎خدمت عالی میں حضرت ابوبکر و عمر نے عرض کیا ہمارے ماں باپ فدا اس گھڑی حضور ہنسا نہ کرتے تھے اللّٰه حضور کو خوش و خرم رکھے کیا چیز آپ کو ہنسارہی ہے ۷؎فرمایا کہ جب اللّٰه کے دشمن ابلیس نے دیکھا کہ اللّٰه تعالٰی نے میری دعا قبول کرلی اور میری امت کو بخش دیا ۸؎تو مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور ہائے وائے پکارنے لگا ۹؎ہم نے جو اس کی گھبراہٹ دیکھی جس سے ہمیں ہنسی آگئی۱۰؎(ابن ماجہ)اور بیہقی نےکتاب البعث و النشورمیں اس کی مثل روایت کی ۱۱؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابوالہیثم ہے،قبیلہ بنی سلیم سے ہیں،بڑے پایہ کے شاعر تھے،فتح مکہ سے کچھ پہلے اسلام لائے،مؤلفۃ القلوب سے تھے،فتح مکہ میں آپ پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ شریک تھے،زمانہ جاہلیت میں آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اپنے پر شراب حرام کرلی تھی اور آپ اپنی قوم کے سردار تھے۔(اشعہ،مرقات)
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ امت سے مراد تاقیامت حجاج ہیں کہ جو حج کو آئے بالکل بخشا جائے،بعض شارحین نے ساری امت مراد لی ہے اور بعض نے صرف حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حج کرنے والے فرمایا مگر پہلی بات قوی تر ہے۔(لمعات،مرقات)
۳
؎مظالم سے مراد حقوق العباد ہیں خواہ مالی حق ہوں یا جانی ۔حق العبد وہ ہے جو بندے کے معاف کردینے سے معاف ہوجائے اور حق اللّٰه وہ ہے جسے بندہ معاف نہ کرسکے لہذا قتل کی سزا حق العبد ہے اور زنا کی سزا حق اللّٰه اور چوری کی سزا مقدمہ پہنچنے سے پہلے تو حق العبد ہے،پھر حق اللّٰه بن جاتی ہے یعنی حق اللّٰه حج سے معاف نہ ہوگا وہ تو ادا ہی کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ یہ حج مقبول کی جزا ہے،حج مقبول ہوتا ہی وہ ہے جو نمازیں وغیرہ ادا کرکے کیا جائے لہذا اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمربھر تارک نماز اور شرابی،زانی رہو،حج کر آؤ،سب معاف ہوگیا بلکہ پہلے ان جرموں سے صحیح توبہ کرو پھر آئندہ ان کے قریب نہ جاؤ،توان شاءاللّٰهگزشتہ کوتاہیوں کی معافی ہوجائے گی۔
۴
؎یعنی مظلوم کو جنت دے کر ظالم سے راضی کرادے کہ مظلوم ظالم کو معافی دے دے۔اپنا حق مظلوم معاف کردے اور اے مولٰی تو اپنا حق معاف فرما دے۔خیال رہے کہ ہر حق العبد میں حق اللّٰہ بھی داخل ہوتا ہے ہاں غالب حق العبد ہوتا ہے قاتل جیسے مقتول کا مجرم ہے ایسے ہی رب کا بھی مجرم کہ اس نے رب کا قانون توڑا لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے۔قیامت میں مظلوم کے گناہ ظالم پرڈال دینا یا ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دلوا دینا عدل ہے مگر مظلوم کو جنت دے کر راضی کردینا اور ظالم کی معافی کرادینا یہ رب تعالٰی کا فضل ہے،یہاں یہ تیسری صورت مراد ہے۔
۵
؎یعنی حقوق العباد کا بھی وعدہ کرلیا گیا،اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا لہذا اگر مقروض نے ادائے قرض میں ٹال مٹول کی تھی پھر ادا کر کے حج کو گیا تو حج کی برکت سے ٹال مٹول کا گناہ معاف ہوگیا اور اگر قرض خواہ لاپتہ ہوگیا تھا یا کسی وجہ سے ابھی قرض ادا نہ کیا تھا کہ حج کرلیا تو بھی اب تک تاخیر کا گناہ معاف ہے لیکن اگر حج کے بعد بھی قرض ادا نہ کیا تو اب ٹال مٹول کا گناہ اب از سر نو شروع ہوگا۔ہاں اگر حج میں مرگیا اور بعد میں ورثاء نے بھی ادا نہ کیا مگر اس حاجی کی نیت ادا کی تھی تو امید ہے کہ معافی ہوجائے۔ غرضکہ اس حدیث پر چکڑالویوں کا کوئی اعتراض نہیں،اس قسم کی امید افزاء آیات قرآن کریم میں بھی بہت ہیں،نیز حجاج کو اس حدیث کی بناء پر دلیر ہونا جائز نہیں کیا خبرکس کا حج قبول ہوا اور اس بشارت کا اہل ہو۔
۶
؎یہ شک کسی نیچے کے راوی کو ہے نہ کہ حضرت عباس کو،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تمام زندگی شریف میں کبھی ٹھٹھا نہ لگایا تبسم فرماتے تھے۔
۷
؎یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ادائے عبادت کے موقعہ پر تبسم نہ فرماتے تھے بلکہ اکثر گریہ و زاری فرماتے تھے،اللّٰه تعالٰی حضور کے دندان عالی کو ہمیشہ ہی خوش رکھے،آج مزدلفہ میں سجدہ فرماکر یہ تبسم کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی بگڑی بنوادی،اس پر خوشی ہے۔سبحان اللّٰه! کیا نیارا سوال ہے اور کس خوش اسلوبی سے ہے،دعا دے کر کلام کرنا غلاموں کا طریقہ چاہیے۔
۸
؎معلوم ہوا کہ شیطان جہاں بھی ہو عالم کے ہر حال کی خبر رکھتا ہے اور ہر ظاہر و چھپی باتوں کو سنتا جانتا ہے۔ظاہر ہے کہ ابلیس اس وقت حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ تو تھا نہیں نہ آپ کے سجدہ کے وقت وہاں کان لگائے ہوئے تھا،وہ مردود اپنی جگہ تھا مگر یہاں سے خبردار تھا،جب ناری کی یہ کیفیت ہے تو نوری جماعتوں کے علم و فضل اور باخبری کا کیا پوچھنا،رب تعالٰی ابلیس کے متعلق فرماتا ہے: "اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ هُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَهُمْ
۹
؎ابلیس کی یہ گریہ زاری اپنی نامرادی اور ناکامی پرتھی کہ میں عمر بھر کوشش کر کے بندوں سے گناہ کراؤں گا مگر ایک حج کر کے وہ گناہوں سے پاک و صاف ہوجائیں گے۔
۱۰
؎معلوم ہوا کہ بے دینوں کے ایسے غم پر مؤمنوں کو خوش ہونا چاہیے کہ یہ خوشی بھی عبادت ہے اور سنت بھی ہے۔
۱۱
؎یہ حدیث طبرانی ابو یعلی خطیب وغیرہ محدثین نے مختلف اسنادوں،مختلف عبارتوں سے نقل فرمائیں جن کی تمام اسنادیں ضعیف ہیں، ابن جوزی نے اسے موضوع بتایا،بیہقی نے اس حدیث کے ماتحت فرمایا کہ کوئی حاجی اس حدیث سے دھوکا نہ کھائے اور اپنے کو بالکل مغفور نہ جانے خدا سے خوف رکھے،بعض علماء نے فرمایا کہ یہ وعدہ مشیت الٰہی پر موقوف ہے،رب تعالٰی نے اعلان فرمادیا کہ:"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔(مرقات)امام عسقلانی نے ایک کتاب لکھی ہےقوت الحجاج فی عموم المغفرۃ للحاججس میں ابن جوزی کی موضوع کہنے کی تردید کی ہے اور فرمایا کہ اگرچہ اس حدیث کی اسنادیں ضعیف ہیں مگر چند ضعیف اسنادیں مل کرحدیث قوی کردیتی ہیں۔بہرحال حاجی رب تعالٰی کے کرم کی امید تو رکھے مگر مغرور نہ ہوجائے۔ذنوب کی معافی کی امید رکھے اور حقوق فورًا ادا کر دے خواہ حقوق شرعیہ ہو جیسے قضاء نمازیں یا حقوق عباد جیسے قرض وغیرہ۔(لمعات،اشعہ،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2603