- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- حدیث نمبر 2603
باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2603
کتاب ارکان حج - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهٖ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» . قَالَ: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهٗ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلٰى مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَهٗ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هٰذِهٖ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللّٰهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّ عَدُوَّ اللّٰهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأُمَّتِي، أَخَذَ التُّرَابَ، فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلٰى رَأْسِهٖ وَيَدْعُو بِالوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهٖ » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي: كِتَابِ "الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ" نَحْوَهٗ.
وعن عباس بن مرداس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا لأمته عشية عرفة بالمغفرة فأجيب: «إني قد غفرت لهم ما خلا المظالم فإني آخذ للمظلوم منه» . قال: «أي رب إن شئت أعطيت المظلوم من الجنة وغفرت للظالم» فلم يجب عشيته فلما أصبح بالمزدلفة أعاد الدعاء فأجيب إلى ما سأل. قال: فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم أو قال تبسم فقال له أبو بكر وعمر: بأبي أنت وأمي إن هذه لساعة ما كنت تضحك فيها فما الذي أضحكك أضحك الله سنك؟ قال: «إن عدو الله إبليس لما علم أن الله عز وجل قد استجاب دعائي وغفر لأمتي، أخذ التراب، فجعل يحثوه على رأسه ويدعو بالويل والثبور فأضحكني ما رأيت من جزعه » . رواه ابن ماجه وروى البيهقي في: كتاب "البعث والنشور" نحوه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عباس ابن مرداس سے ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے عرفہ کی شام اپنی امت کے لیے دعائے مغفرت کی ۲؎تو جواب ملا کہ حقوق العباد کے سوا باقی گناہ بخش دیئے مظلوم کا حق تو لوں گا ۳؎عرض کیا یارب اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے دے اور ظالم کو بخش دے ۴؎اس شام کو تو جواب نہ ملا مگر جب مزدلفہ میں حضور نے صبح کی تو وہ ہی دعا دوبارہ کی تب آپ کا سوال پورا کیا گیا ۵؎راوی فرماتے ہیں تب رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم ہنسے یا مسکرائے ۶؎خدمت عالی میں حضرت ابوبکر و عمر نے عرض کیا ہمارے ماں باپ فدا اس گھڑی حضور ہنسا نہ کرتے تھے اللّٰه حضور کو خوش و خرم رکھے کیا چیز آپ کو ہنسارہی ہے ۷؎فرمایا کہ جب اللّٰه کے دشمن ابلیس نے دیکھا کہ اللّٰه تعالٰی نے میری دعا قبول کرلی اور میری امت کو بخش دیا ۸؎تو مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور ہائے وائے پکارنے لگا ۹؎ہم نے جو اس کی گھبراہٹ دیکھی جس سے ہمیں ہنسی آگئی۱۰؎(ابن ماجہ)اور بیہقی نےکتاب البعث و النشورمیں اس کی مثل روایت کی ۱۱؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ کی کنیت ابوالہیثم ہے،قبیلہ بنی سلیم سے ہیں،بڑے پایہ کے شاعر تھے،فتح مکہ سے کچھ پہلے اسلام لائے،مؤلفۃ القلوب سے تھے،فتح مکہ میں آپ پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ شریک تھے،زمانہ جاہلیت میں آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اپنے پر شراب حرام کرلی تھی اور آپ اپنی قوم کے سردار تھے۔(اشعہ،مرقات)
۲؎ظاہر یہ ہے کہ امت سے مراد تاقیامت حجاج ہیں کہ جو حج کو آئے بالکل بخشا جائے،بعض شارحین نے ساری امت مراد لی ہے اور بعض نے صرف حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حج کرنے والے فرمایا مگر پہلی بات قوی تر ہے۔(لمعات،مرقات)
۳؎مظالم سے مراد حقوق العباد ہیں خواہ مالی حق ہوں یا جانی ۔حق العبد وہ ہے جو بندے کے معاف کردینے سے معاف ہوجائے اور حق اللّٰه وہ ہے جسے بندہ معاف نہ کرسکے لہذا قتل کی سزا حق العبد ہے اور زنا کی سزا حق اللّٰه اور چوری کی سزا مقدمہ پہنچنے سے پہلے تو حق العبد ہے،پھر حق اللّٰه بن جاتی ہے یعنی حق اللّٰه حج سے معاف نہ ہوگا وہ تو ادا ہی کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ یہ حج مقبول کی جزا ہے،حج مقبول ہوتا ہی وہ ہے جو نمازیں وغیرہ ادا کرکے کیا جائے لہذا اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمربھر تارک نماز اور شرابی،زانی رہو،حج کر آؤ،سب معاف ہوگیا بلکہ پہلے ان جرموں سے صحیح توبہ کرو پھر آئندہ ان کے قریب نہ جاؤ،توان شاءاللّٰهگزشتہ کوتاہیوں کی معافی ہوجائے گی۔
۴؎یعنی مظلوم کو جنت دے کر ظالم سے راضی کرادے کہ مظلوم ظالم کو معافی دے دے۔اپنا حق مظلوم معاف کردے اور اے مولٰی تو اپنا حق معاف فرما دے۔خیال رہے کہ ہر حق العبد میں حق اللّٰہ بھی داخل ہوتا ہے ہاں غالب حق العبد ہوتا ہے قاتل جیسے مقتول کا مجرم ہے ایسے ہی رب کا بھی مجرم کہ اس نے رب کا قانون توڑا لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے۔قیامت میں مظلوم کے گناہ ظالم پرڈال دینا یا ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دلوا دینا عدل ہے مگر مظلوم کو جنت دے کر راضی کردینا اور ظالم کی معافی کرادینا یہ رب تعالٰی کا فضل ہے،یہاں یہ تیسری صورت مراد ہے۔
۵؎یعنی حقوق العباد کا بھی وعدہ کرلیا گیا،اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا لہذا اگر مقروض نے ادائے قرض میں ٹال مٹول کی تھی پھر ادا کر کے حج کو گیا تو حج کی برکت سے ٹال مٹول کا گناہ معاف ہوگیا اور اگر قرض خواہ لاپتہ ہوگیا تھا یا کسی وجہ سے ابھی قرض ادا نہ کیا تھا کہ حج کرلیا تو بھی اب تک تاخیر کا گناہ معاف ہے لیکن اگر حج کے بعد بھی قرض ادا نہ کیا تو اب ٹال مٹول کا گناہ اب از سر نو شروع ہوگا۔ہاں اگر حج میں مرگیا اور بعد میں ورثاء نے بھی ادا نہ کیا مگر اس حاجی کی نیت ادا کی تھی تو امید ہے کہ معافی ہوجائے۔ غرضکہ اس حدیث پر چکڑالویوں کا کوئی اعتراض نہیں،اس قسم کی امید افزاء آیات قرآن کریم میں بھی بہت ہیں،نیز حجاج کو اس حدیث کی بناء پر دلیر ہونا جائز نہیں کیا خبرکس کا حج قبول ہوا اور اس بشارت کا اہل ہو۔
۶؎یہ شک کسی نیچے کے راوی کو ہے نہ کہ حضرت عباس کو،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تمام زندگی شریف میں کبھی ٹھٹھا نہ لگایا تبسم فرماتے تھے۔
۷؎یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ادائے عبادت کے موقعہ پر تبسم نہ فرماتے تھے بلکہ اکثر گریہ و زاری فرماتے تھے،اللّٰه تعالٰی حضور کے دندان عالی کو ہمیشہ ہی خوش رکھے،آج مزدلفہ میں سجدہ فرماکر یہ تبسم کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی بگڑی بنوادی،اس پر خوشی ہے۔سبحان اللّٰه! کیا نیارا سوال ہے اور کس خوش اسلوبی سے ہے،دعا دے کر کلام کرنا غلاموں کا طریقہ چاہیے۔
۸؎معلوم ہوا کہ شیطان جہاں بھی ہو عالم کے ہر حال کی خبر رکھتا ہے اور ہر ظاہر و چھپی باتوں کو سنتا جانتا ہے۔ظاہر ہے کہ ابلیس اس وقت حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ تو تھا نہیں نہ آپ کے سجدہ کے وقت وہاں کان لگائے ہوئے تھا،وہ مردود اپنی جگہ تھا مگر یہاں سے خبردار تھا،جب ناری کی یہ کیفیت ہے تو نوری جماعتوں کے علم و فضل اور باخبری کا کیا پوچھنا،رب تعالٰی ابلیس کے متعلق فرماتا ہے: "اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ هُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَهُمْ"۔
۹؎ابلیس کی یہ گریہ زاری اپنی نامرادی اور ناکامی پرتھی کہ میں عمر بھر کوشش کر کے بندوں سے گناہ کراؤں گا مگر ایک حج کر کے وہ گناہوں سے پاک و صاف ہوجائیں گے۔
۱۰؎معلوم ہوا کہ بے دینوں کے ایسے غم پر مؤمنوں کو خوش ہونا چاہیے کہ یہ خوشی بھی عبادت ہے اور سنت بھی ہے۔
۱۱؎یہ حدیث طبرانی ابو یعلی خطیب وغیرہ محدثین نے مختلف اسنادوں،مختلف عبارتوں سے نقل فرمائیں جن کی تمام اسنادیں ضعیف ہیں، ابن جوزی نے اسے موضوع بتایا،بیہقی نے اس حدیث کے ماتحت فرمایا کہ کوئی حاجی اس حدیث سے دھوکا نہ کھائے اور اپنے کو بالکل مغفور نہ جانے خدا سے خوف رکھے،بعض علماء نے فرمایا کہ یہ وعدہ مشیت الٰہی پر موقوف ہے،رب تعالٰی نے اعلان فرمادیا کہ:"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔(مرقات)امام عسقلانی نے ایک کتاب لکھی ہےقوت الحجاج فی عموم المغفرۃ للحاججس میں ابن جوزی کی موضوع کہنے کی تردید کی ہے اور فرمایا کہ اگرچہ اس حدیث کی اسنادیں ضعیف ہیں مگر چند ضعیف اسنادیں مل کرحدیث قوی کردیتی ہیں۔بہرحال حاجی رب تعالٰی کے کرم کی امید تو رکھے مگر مغرور نہ ہوجائے۔ذنوب کی معافی کی امید رکھے اور حقوق فورًا ادا کر دے خواہ حقوق شرعیہ ہو جیسے قضاء نمازیں یا حقوق عباد جیسے قرض وغیرہ۔(لمعات،اشعہ،مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2603