Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2594

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللّٰهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهٗ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة قالت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة وإنه ليدنو ثم يباهي بهم الملائكة فيقول: ما أراد هؤلاء ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا عرفہ سے بڑھ کر ایسا کوئی دن نہیں جس میں اللّٰه اپنے بہت سے بندوں کو آگ سے آزاد کردے ۱؎رب تعالٰی اس دن بہت ہی قریب ہوتا ہے پھر ان فرشتوں پر فخر فرماتا ہے کہتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سال بھر کے تمام دنوں سے زیادہ نویں ذی الحجہ کو گنہگار بخشے جاتے ہیں۔عبدکے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰه تعالٰی اس دن حاجیوں کے علاوہ اور بندوں کو بھی بخشتا ہے اسی لیے غیر حجاج کے لیے اس دن روزہ سنت ہے۔
۲
؎یعنی اس دن اللّٰه کی رحمت بندوں سے قریب تر ہوتی ہے اور رب تعالٰی فرشتوں پر حاجیوں کی افضلیت،ان کی شرافت و کرامت ظاہر فرماتا ہے کہ اے فرشتوں تم نے کہا تھا کہ انسان خونریزی و فساد کرے گا تم نے اس پر غور نہ کیا کہ انسان اپنا گھر بار وطن چھوڑ کر پردیسی بن کر،پریشان بال،کفن پہنےلبیك لبیكکی صدائیں لگاتا عرفات کے میدان میں بھی آئے گا،بتاؤ ان حاجیوں نے سواء میری رضاء کے اور کیا چاہا ہے،صرف مجھے ر اضی کرنے کے لیے یہ لوگ ان میدانوں میں مارے مارے پھررہے ہیں یہ شرف نہ ملائکہ کو حاصل ہے نہ جنات کو صرف ان ہی کا حصہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2594