Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2601

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ إِنَّ اللّٰهَ يَنْزِلُ إِلٰى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلٰى عِبَادِي أَتَوْنِي شُعْثًا غُبْرًا ضَاجِّينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَيَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبِّ فُلَانٌ كَانَ يُرَهَّقُ وَفُلَانٌ وَفُلَانَةُ قَالَ: يَقُولُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ". قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ عَتِيقًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ» . رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا كان يوم عرفة إن الله ينزل إلى السماء الدنيا فيباهي بهم الملائكة فيقول: انظروا إلى عبادي أتوني شعثا غبرا ضاجين من كل فج عميق أشهدكم أني قد غفرت لهم فيقول الملائكة: يا رب فلان كان يرهق وفلان وفلانة قال: يقول الله عز وجل: قد غفرت لهم ". قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فما من يوم أكثر عتيقا من النار من يوم عرفة» . رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو رب تعالٰی دنیاوی آسمان کی طرف نزول کرم فرماتا ہے ۱؎تو حجاج کے ذریعے فرشتوں پر فخرکرتاہے ۲؎فرماتا ہے میرے بندوں کو دیکھو کہ میرے پاس بکھرے بال گرد آلود دور دراز کے راستوں سے شور مچاتے آئے ہیں میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا ۳؎فرشتے عرض کرتے ہیں یارب فلاں مرد اور فلاں عورت تو بدکاری کرتے رہے ہیں ۴؎فرمایا رب تعالٰی فرماتا ہے میں نے انہیں بھی بخش دیا ۵؎فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ عرفہ سے زیادہ کوئی دن لوگوں کے آگ سے چھٹکارا پانے کا نہیں ۶؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎اللّٰه تعالٰی اترنے چڑھنے آنے جانے سے پاک ہے ایسے مقام پر اللّٰه کی رحمت اس کی مغفرت کا اترنا مراد ہوتا ہے۔ آسمان دنیا سے پہلا آسمان مراد ہے جو زمین سے قریب تر ہے،چونکہ اس آسمان کے فرشتے زمین والوں سے بہت واقف ہوتے ہیں اس لیے رب تعالٰی کی رحمتیں پہلے اس آسمان پر اترتی ہیں پھر زمین پر تاکہ ان فرشتوں کی نگاہ میں خصوصیت سے مسلمانوں کا وقار قائم ہو اور ان کے لیے دعائے مغفرت کیا کریں۔
۲
؎رب کے فخر فرمانے کے معنی ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔حُجَّاجْسے مراد عرفہ میں ٹھہرے ہوئے حاجی ہیں اور فرشتوں سے مراد عمومًا سارے فرشتے ہیں اور خصوصًا پہلے آسمان کے،چونکہ فرشتے انسانوں کے گناہ دیکھتے رہتے ہیں اس لیے انہیں خصوصیات سے مسلمانوں کی نیکیاں دکھائی جاتی ہیں،یہ رب کی بندہ نوازی ہے کہ ہمارے گناہوں پر فرشتوں کو اس طرح اہتمام سے متوجہ نہیں کیا جاتا مگر نیکیوں پر جو اسی کی توفیق سے ہیں فرشتوں کو متوجہ بھی کیا جاتا ہے اور ثواب بھی انہیں گواہ بناکر دیا جاتا ہے۔
۳
؎سبحان اللّٰه! کیا پیارے کلمات ہیں بحالت احرام حجاج پراگندہ بال بھی ہوتے ہیں کہ اس حال میں کنگھی کرنا منع ہے اور گرد و غبار میں آٹے ہوئے بھی کہ وہ ریگستانی علاقہ ہے،حجاج زیادہ غسل بھی نہیں کرسکتے،دور دراز ملک سے لبیک کا شور کرتے پہنچتے ہیں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کسی برکت والی جگہ جانا رب کے پاس جانا ہے،دیکھو عرفات میں پہنچنے والوں کو فرمایا گیا کہ یہ میرے پاس آئے کیونکہ عرفات وہ مقام ہے جہاں انبیائے کرام گزرے یا رہے ہیں لہذا انبیاء و اولیاء کے مزارات پر حاضری دینا رب کے پاس ہی جانا ہے۔دوسرے یہ کہ اللّٰه کے مقبولوں کو اچھے کام پر گواہ بنالینا چاہیے،ہم نے لوگوں کو کہتے سنا کہ نیکیاں مقبولوں کے سامنے کرو اور گناہ ان سے چھپاؤ ان سے غیرت کرو۔
۴
؎یہ کلام اظہار تعجب کے لیے ہے کہ خدایا ہم نے فلاں حاجی اور فلاں حجن کو فسق اور بڑے بڑے گناہ گزشتہ زمانہ میں کرتے دیکھا ہے کیا یہ بھی بخش دیئے گئے۔اس سے معلوم ہوا کہ آسمان کے رہنے والے فرشتے بھی ہمارے ہر عمل سے خبردار ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"یَعْلَمُوۡنَ مَا تَفْعَلُوۡنَ"تو اگر اللّٰه کے حبیب گنبد خضرا میں رہتے ہوئے ہمارے ہر عمل سے خبردار ہوں اور ہماری بدکاریوں کی ستاری اور ہماری گنہگاریوں کی شفاعت اور نیک کاریوں کی دعائے قبولیت فرماتے ہوں تو کیا تعجب ہے۔
۵
؎کیونکہ یہ اگرچہ بر ے ہیں مگر اچھی جگہ،اچھوں کی جگہ اور اچھوں کے پاس آگئے،میں نے انہیں بھی بخش دیا کہ اچھوں کا سا تھی بھی مجرم نہیں رہتا،اور لکڑی کے سنگ لوہا بھی تیر جاتا ہے۔
۶
؎چنانچہ حاکم کی روایت میں یوں ہے کہ اے میرے حاجی بندو اگر تمہارے گناہ ریگستانوں کے ذروں،پانی کے قطروں،درختوں کے پتوں کے برابر بھی ہوں جب بھی تمہیں بخش دیا، جاؤ میں نے تمہیں بھی بخشا اور جس کی تم سفارش کرو اس کو بھی بخشا۔(مرقات)اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ نویں بقر عید کو عام مسلمانوں کی بخشش ہوتی ہے حاجی ہوں یا غیر حاجی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2601