Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2600

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ وَلَا أَدْحَرُ وَلَا أَحْقَرُ وَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَا يَرَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللّٰهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِلَّا مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ» . فَقِيلَ: مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ؟ قَالَ: «فَإِنَّهٗ قَدْ رَاٰى جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِكَةَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ

وعن طلحة بن عبيد الله بن كريز أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما رئي الشيطان يوما هو فيه أصغر ولا أدحر ولا أحقر ولا أغيظ منه في يوم عرفة وما ذاك إلا لما يرى من تنزل الرحمة وتجاوز الله عن الذنوب العظام إلا ما رئي يوم بدر» . فقيل: ما رئي يوم بدر؟ قال: «فإنه قد راى جبريل يزع الملائكة» . رواه مالك مرسلا وفي شرح السنة بلفظ المصابيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبیداللّٰه ابن کریز سے ۱؎کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن شیطان بہت چھوٹا بہت پھٹکارا ہوا اور بہت ذلیل و غمگین نہ دیکھا گیا ۲؎یہ صرف اس لیے ہے کہ وہ آج کے دن رحمت باری کا نزول اور اللّٰه کا بڑے گناہوں کی معافی دینا مشاہدہ کرتاہے۳؎اس کے سواء جو بدر کے دن دیکھا گیا ۴؎عرض کیا گیا حضور بدر کے دن کیا دیکھا گیا فرمایا اس نے حضرت جبریل کو دیکھا کہ وہ فرشتوں کی صف آرائی کررہے ہیں ۵؎(مالک)مرسلًا اور شرح سنہ میں لفظ مصابیح سے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ طلحہ تابعی ہیں،اہل شام میں سے ہیں اسی لیے مصنف نے ان کے دادا کا نام بھی لے دیا کیونکہ طلحہ ابن عبیداللّٰه ابن عفان مشہور صحابی عشرہ مبشرہ میں سے ہیں،ان کے دادا عثمان یعنی ابو قحافہ صدیق اکبر کے والد ہیں،فقط طلحہ سے ذہن انہی کی طرف منتقل ہوتا ہے جیسے صرف عبداللّٰه سے عبداللّٰه ابن مسعود اور صرف حسن سے خواجہ حسن بصری سمجھ میں آتے ہیں۔
۲
؎اصغر صغارسے ہے بمعنی حقارتادحر دحرسے بنا بمعنی ذلت کے ساتھ نکالنا،ر ب تعالٰی فرماتا ہے:"مِنۡ کُلِّ جَانِبٍ دُحُوۡرًا" اور فرماتا ہے:"اخْرُجْ مِنْھَا مَذْءُوۡمًا مَّدْحُوۡرًا"۔شیطان سے مراد یا تو ابلیس ہے یا وہ اور اس کی ساری ذریت یعنی یوں تو شیطان ہمیشہ ہی ذلیل و خوار اور غمگین رہتا ہے مگر نویں بقرعید کو حاجیوں کو عرفہ میں دیکھ کر بہت غمگین ہوتا ہے۔معلوم ہوا کہ نیک کام پرغم کرنا اور نیکیوں سے جلنا شیطانی عمل ہے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کی نگاہ سے غیبی پردے اٹھے ہوئے ہیں جن سے وہ فرشتوں کو بھی دیکھ لیتا ہے،اللّٰه کی رحمت اترتے ہوئے دیکھتا ہے اور رب تعالٰی کے فیصلوں سے بھی خبردار رہتا ہے ورنہ اس دن اس کے زیادہ غمگین ہونے کے کیا معنی،جب اس ناری کا یہ حال ہے تو نوری مخلوق کی شان کیا ہوگی۔
۴
؎کہ اس دن وہ عرفہ کے دن سے بھی زیادہ پریشان غمگین و ذلیل و خوار تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی نگاہوں سے شیطان اور اس کی ذریت چھپی ہوئی نہیں،حضور تو اس کی دلی کیفیتوں تک سے مطلع ہیں کہ اس کے دل پراس وقت کیا گزررہی ہے۔رایسے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے اسے آنکھوں سے دیکھا۔
۵
؎یَزَ عُ وَزَ عٌسے بمعنی تقسیم وترتیب،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَهُمْ یُوۡزَعُوۡنَ" اہل عرب صفیں ترتیب دینے والے کووازعکہتے ہیں،یہاں فرشتوں سے وہ پانچ ہزار فرشتے مراد ہیں جو مسلمانوں کی امداد کے لیے جنگ بدر کے دن آئے،یہ فرشتے کفار کو ہلاک کرنے نہ آئے تھے ورنہ ایک فرشتہ پورے ملک کو ہلاک کرسکتا ہے بلکہ مسلمانوں کی معیت اور حضور کی ماتحتی کی عظمت حاصل کرنے آئے تھے جیسے بدری صحابہ تمام صحابہ سے افضل ہیں ایسے ہی بدری فرشتے دوسرے فرشتوں سے افضل۔شعر
معلوم ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اسی تاجور کی ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2600