Main Icon

باب: عرفہ میں ٹھہرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2593

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَحَرْتُ هٰهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوْا فِي رِحَالِكُمْ. وَوَقَفْتُ هٰهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هٰهُنَا وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «نحرت ههنا ومنى كلها منحر فانحروا في رحالكم. ووقفت ههنا وعرفة كلها موقف، ووقفت ههنا وجمع كلها موقف» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم نے یہاں قربانی کرلی ہے مگر سارا منٰی ہی قربانی گاہ ہے لہذا اپنی منزلوں میں قربانی کرسکتے ہو ۱؎اور ہم نے یہاں قیام فرمایا ہے مگر سارا عرفہ ہی قیام گاہ ہے ۲؎اور ہم نے یہاں وقوف مزدلفہ کیا ہے مگر سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ھھناسے منٰی کی اس جگہ کی طرف اشارہ ہے جہاں حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے قربانی کی یعنی صرف یہاں ہی قربانی کرنا واجب نہیں بلکہ سارا ہی منٰے قربانی گاہ ہے جہاں بھی کرلو گے ہوجائے گی حتی کہ اپنے خیموں میں بھی قربانی کرسکتے ہو،اب حکومت نے منی میں قربانی کے لیے الگ جگہ خاص کردی تاکہ خیموں اور راستوں میں خون نہ بہے اور بیماری نہ پھیلے،یہ حکم انتظامی ہے نہ کہ شرعی اور سرکار کا یہ فرمان اباحت کے لیے ہے نہ کہ وجوب کے لیے،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مسجد حنیف کے پاس قربانی کی تھی وہاں اب مسجد بنی ہوئی ہے جسے مسجد نحر کہتے ہیں۔
۲
؎یعنی ہم نے جبل رحمت کے پاس وہاں کی چٹانوں سے متصل اپنا خیمہ ڈالا اور قیام فرمایا،عرفات میں قیام کی جگہ صرف یہی نہیں بلکہ بطن عرفہ کے سواء سارا میدان قیام گاہ ہے۔
۳
؎یعنی ہم نے مزدلفہ میں مشعر الحرام کے پاس قیام کیا مگر وادی محسّر کے سواء سارا مزدلفہ قیام گاہ ہے۔مزدلفہزَلْفٌسے بنا باب افتعال کی ت دال بن گئی اس کے معنی ہیں قرب کی جگہ،چونکہ حاجی یہاں پہنچ کر اللّٰه سے قریب ہوتا ہے،نیز یہ جگہ منٰی سے قریب ہے اس لیے مزدلفہ کہا جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ"۔علماء فرماتے ہیں کہ ان تینوں مقامات میں جس قدر حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی قیام گاہ سے قرب ہو اتنا ہی اچھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2593