Main Icon

باب: جہاد میں قتل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3937

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ:أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ " قَالَ: "فِي الْجَنَّةِ" فَأَلْقٰى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهٖ، ثُمَّ قَاتَلَ حتّٰى قُتِلَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن جابر قال: قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يوم أحد:أرأيت إن قتلت فأين أنا؟ " قال: "في الجنة" فألقى تمرات في يده، ثم قاتل حتى قتل. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے احد کے دن عرض کیا فرمایئے کہ اگر میں قتل کردیا جاؤں میں کہاں ہوں گا فرمایا جنت میں ۱؎تو اس نے اپنے ہاتھ میں سے چھوارے پھینک دیئے ۲؎پھر جنگ کی حتی کہ قتل کردیا گیا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جنت کے اس اعلیٰ مقام میں جو شہیدوں کے لیے ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس بزرگ کا خاتمہ بالخیر ہونے والا تھا اور تمام گناہوں کی معافی اس کے نصیب میں تھی شہادت اس کے مقدر ہوچکی تھی اس لیے یہ جواب عطا ہوا۔معنی یہ ہیں تو شہید ہوتے ہی جنت میں پہنچے گا۔
۲
؎یعنی وہ سائل چھوارے کھا رہا تھا اور یہ سوال کررہا تھا جواب عالی سنتے ہی شہادت و جنت کے شوق میں چھوارے پھینک دیئے اسے اب تھوڑی زندگی بھی بوجھ معلوم ہونے لگی۔
۳
؎بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہ صاحب حضرت عمیر ابن حمام ہیں مگر یہ درست نہیں کیونکہ حضرت عمیر تو غزوہ بدر میں شہید ہوئے ہیں اور واقعہ غزوہ احد کا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3937