Main Icon

باب: جہاد میں قتل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3950

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيَّتْنَاهُمْ نَقْتُلُهُمْ، وَكَانَ شِعَارُنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ: أَمِتْ أَمِتْ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن سلمة بن الأكوع قال: غزونا مع أبي بكر زمن النبي صلى الله عليه وسلم فبيتناهم نقتلهم، وكان شعارنا تلك الليلة: أمت أمت. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ابوبکر صدیق کے ساتھ جہاد کیا ۱؎تو ہم نے ان پر شب خون مارا ہم انہیں قتل کرتے تھے اور اس رات ہمارا نشان تھاأمِتأمِت۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ پتہ نہ لگا کہ یہ واقعہ کس جہاد میں ہوا بہرحال زمانہ پاک نبوی میں جہاد ہے مگر حضور سرکار عالی بنفس نفیس اس میں تشریف نہیں لے گئے ہیں،حضرت ابوبکر صدیق سپہ سالار اعظم ہیں۔
۲
؎یہ بھی دعا ہے۔أمِتکے معنی ہیں موت دے یعنی یا الہٰ العالمین کفار کو ہمارے ہاتھوں موت دے کر ہلاک فرمادے یا مغلوب کردے یا کفر کو موت دے کہ یہ کفار مسلمان ہوجائیں،کفر غارت ہو اور ہوسکتا ہے کہ اس میں خطاب سامنے والے غازی مسلمان سے ہو یعنی اے بہادر غازی مار مار بہادری کر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3950