Main Icon

باب: جہاد میں قتل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3957

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ تَقَدَّمَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَتَبِعَهُ ابْنُهٗ وَأَخُوْهُ فَنَادٰى: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَانْتَدَبَ لَهٗ شَبَابٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَأَخْبَرُوْهُ فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكُمْ إِنَّمَا أَرَدْنَا بَنِيْ عَمِّنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُمْ يَا حَمْزَةُ، قُمْ يَا عَلِيُّ، قُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ". فَأَقْبَلَ حَمْزَةُ إِلٰى عُتْبَةَ، وَأَقْبَلْتُ إِلٰى شَيْبَةَ، وَاخْتَلَفَ بَيْنَ عُبَيْدَةَ وَالْوَلِيْدِ ضَرْبَتَانِ،فَأَثْخَنَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهٗ، ثُمَّ مِلْنَا عَلَى الْوَلِيْدِ فَقَتَلْنَاهُ وَاحْتَمَلْنَا عُبَيْدَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن علي قال: لما كان يوم بدر تقدم عتبة بن ربيعة، وتبعه ابنه وأخوه فنادى: من يبارز؟ فانتدب له شباب من الأنصار فقال: من أنتم؟ فأخبروه فقال: لا حاجة لنا فيكم إنما أردنا بني عمنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قم يا حمزة، قم يا علي، قم يا عبيدة بن الحارث". فأقبل حمزة إلى عتبة، وأقبلت إلى شيبة، واختلف بين عبيدة والوليد ضربتان،فأثخن كل واحد منهما صاحبه، ثم ملنا على الوليد فقتلناه واحتملنا عبيدة. رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں جب بدر کا دن تھا تو عتبہ آگے تھا اس کے پیچھے اس کا بیٹا اور اس کے دونوں بھائی تھے ۱؎پکارا کہ کوئی مقابلہ میں آتا ہے تو اس کے مقابلہ میں انصاری جوانوں نے جواب دیا ۲؎وہ بولا تم لوگ کون ہو انہوں نے بتایا تو بولا ہم کو تمہاری ضرورت نہیں ہم تو اپنے چچا زادوں کو کہتے ہیں۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے حمزہ اٹھو اے علی کھڑے ہو اے عبیدہ ابن حارث اٹھو۴؎چنانچہ حمزہ تو عتبہ کی طرف آئے اور میں شیبہ کی طرف گیا ۵؎اور عبیدہ اور ولید کے درمیان دو چوٹیں ہوئیں ۶؎تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے مقابل کو ٹھنڈا کردیا ۷؎پھر ہم ولید پر ٹوٹ پڑے اسے ہم نے قتل کیا اور ہم عبیدہ کو اٹھالائے ۸؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی گھمسان کی جنگ سے پہلے مبارزت کی جنگ اس طرح شروع ہوئی کہ عتبہ ابن ربیعہ اس کا بیٹا ولید ابن عتبہ اور عتبہ کا بھائی شیبہ ابن ربیعہ کفار کی صف سے میدان میں آئے اور مسلمانوں سے اپنا مقابل مانگا اس زمانہ میں جماعتی جنگ سے پہلے شخصی جنگ ہوتی تھی۔
۲
؎اس طرح کہ مسلمانوں میں سے تین انصاری نوجوان اس کے مقابل پہنچے۔انتدابکے معنی ہیں دعوت جنگ قبول کرنا۔
۳
؎یعنی تم سے لڑنا میری توہین ہے ہمارے مقابل مہاجرین مکہ قرشی جوانوں کو بھیجو تاکہ قرشی کا مقابلہ قرشی سے ہو۔
۴
؎حارث ابن عبدالمطلب حضور کے چچا ہیں،عبیدہ ان کے بیٹے حارث ایمان نہ لائے مگر عبیدہ شروع میں ہی اسلام لائے۔دارارقم میں حضور کے تشریف لے جانے سے پہلے ہی،عبیدہ عمر میں حضور سے زیادہ تھے۔اس وقت بوڑھے تھے۔
۵
؎ابوداؤد شرح سنہ میں بلکہ مصابیح کے بعض نسخوں میں یہ زیادتی ہے کہ حمزہ نے تو عتبہ کو قتل کردیا اور میں نے شیبہ کو قتل کردیا بہرحال ان دونوں صاحبوں نے اپنے حریفوں کو دوزخ میں پہنچادیا کیوں نہ ہوتا کہ یہ دونوںکے شیر تھے شیر کے مقابل بھیڑ کہاں ٹھہرے۔
۶
؎اس طرح کہ عبیدہ نے ولید پرتلوار کا وار کیا جو اسے زخمی کر گیا اور ولید نے عبیدہ کو زخمی کردیا دو طرف وار بھر پور ہوئے۔
۷
؎یہاں ٹھنڈا کرنے سے مراد موت نہیں بلکہ زخموں سے چور کرکے ضعیف و کمزور کردینا ہے یعنی یہ دونوں ایک دوسرے کو پہنچائے ہوئے زخموں سے چور ہوکر نڈھال ہوگئے۔
۸
؎اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں شخصی جنگ(مبارزہ)اپنے حریف کے سوا دوسرے پر حملہ کردینا بھی جائز ہے۔امام مالک و شافعی کے ہاں تو مطلقًا جائز ہے،امام ابوحنیفہ کے ہاں امام کی اجازت سے جائز ہے،یہ ہی امام اوزاعی فرماتے ہیں۔یہاں حضرت حمزہ و علی کا ولید پر ٹوٹ پڑنا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اشارے سے ہوا ہوگا۔خیال رہے کہ کتب تواریخ میں ہے کہ حضرت علی ولید کے مقابل گئے تھے جناب علی بھی جوان تھے اور ولیدبھی شیبہ اور عتبہ بوڑھے تھے،ادھر حضرت حمزہ اور عبیدہ بوڑھے تھے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3957