Main Icon

باب: جہاد میں قتل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3956

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اِنْطَلِقُوْا بِاسْمِ اللّٰهِ وَبِاللّٰهِ وعَلٰى مِلِّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ، لَا تَقْتُلُوْا شَيْخًا فَانِيًا، وَلَا طِفْلًا صَغِيْرًا، وَلَا اِمْرَأَةٍ، وَلَا تَغُلُّوْا، وَضُمُّوْا غَنَائِمَكُمْ،وَأَصْلِحُوْا، وَأَحْسِنُوْا فَإِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "انطلقوا باسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله، لا تقتلوا شيخا فانيا، ولا طفلا صغيرا، ولا امرأة، ولا تغلوا، وضموا غنائمكم،وأصلحوا، وأحسنوا فإن الله يحب المحسنين". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ۱؎چلوکے نام پرکی مدد پر رسول اللہ کے دین پرکسی قریب موت بڈھے کو قتل نہ کرو۲؎نہ چھوٹے بچے کو ۳؎نہ عورت کو اور خیانت نہ کرنا اپنی غنیمتیں ملالینا اصلاح اور بھلائی کرنا۴؎کیونکہبھلائی والوں سے محبت کرتا ہے ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک بار حضور انور نے صحابہ کرام کو جہاد کے لیے بھیجا انہیں رخصت فرماتے وقت یہ دعائیں اور نصیحتیں کیں۔
۲
؎بڈھے سے مراد وہ ہی بڈھا ہے جو جنگجو کفار کو جنگی تدبیریں نہ بتاتا ہو ورنہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوازن کی جنگ میں زید ابن صمہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔زید ابن صمہ کی عمر اس وقت ایک سو بیس سال تھی کیونکہ وہ لڑرہا تھا۔(مرقات)
۳
؎بچہ سے مراد نابالغ بچہ ہے یہاں بھی یہ ہی قید ہے کہ بچہ نہ تو کفار کا بادشاہ ہو نہ جرنیل وغیرہ نہ سپاہی بلکہ جنگ سے بے تعلق ہو۔
۴
؎یعنی ہر غازی اپنی حاصل کردہ غنیمت علیٰحدہ نہ رکھے بلکہ ملا کر سپہ سالار کے سپرد کردے آپس میں ایک دوسرے سے اچھا سلوک کرے۔مجاہدوں کی جان ایک ہو جسم الگ الگ،مسلمانوں کا آپس میں لڑنا بھڑنا ہر وقت ہی برا ہے مگر ایسی حالت میں بہت خطرناک ہے۔
۵
؎فقہاء فرماتے ہیں کہ کفار کے بچے،دیوانے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے،ان کے پنڈت جوگی جو جنگ سے بے تعلق ہوں قتل نہ کیے جائیں۔موطا امام مالک میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے شام پر لشکر کشی کی جس کے سپہ سالار یزید ابن ابوسفیان تھے تو آپ نے فرمایا کہ اے یزید میں تم کو دس چیزوں کی وصیت کرتا ہوں:کسی بچہ کو،عورت کو،بڈھے کو قتل نہ کرنا۔پھل دار درخت کو نہ کاٹنا،گائے بکری کو ذبح نہ کرنا مگر کھانے کے لیے،آبادی کو نہ جلانا نہ ویران کرنا،قیدی کفار کے اہل قرابت کو جدا نہ کرنا،بزدلی نہ کرنا،خیانت نہ کرنا۔(مرقات)موجودہ کفار اسی فرمان صدیق میں غور کریں اور آج کل کی وحشیانہ جنگوں کو دیکھیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3956