Main Icon

باب: جہاد میں قتل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3946

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَن أبي أُسَيْدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا يَوْمَ بَدْرٍ حِيْنَ صَفَفْنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوْا لَنَا: "إِذَا أَكْثَبُوْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ". وَفِي رِوَايَةٍ: "إِذَا أَكْثَبُوْكُمْ فَارْمُوْهُمْ وَاسْتَبْقُوْا نَبْلَكُمْ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
وَحَدِيثُ سَعْدٍ: "هَلْ تُنْصَرُوْنَ" سَنَذْكُرُهٗ فِي "بَابِ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ". وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِي "بَابِ الْمُعْجزَاتِ" إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى.

وعن أبي أسيد: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لنا يوم بدر حين صففنا لقريش وصفوا لنا: "إذا أكثبوكم فعليكم بالنبل". وفي رواية: "إذا أكثبوكم فارموهم واستبقوا نبلكم". رواه البخاري.
وحديث سعد: "هل تنصرون" سنذكره في "باب فضل الفقراء". وحديث البراء: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم رهطا في "باب المعجزات" إن شاء الله تعالى.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی اسید سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم سے بدر کے دن فرمایا ۲؎جب کہ ہم نے قریش کے مقابل صفیں باندھیں ۳؎اور انہوں نے ہمارے مقابل صف آرائی کی کہ جب تم سے قریب ہوں تو تم تیر لو۴؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب وہ تم سے قریب ہوں تو انہیں تیرمارو اور اپنے تیر باقی رکھو ۵؎(بخاری)اور حضرت سعد کی حدیثھل تنصرونالخباب فضل الفقراءمیں ہم بیان کریں گے اور حضرت براء کی حدیث بعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الخ(ان شاءالله)باب المعجزاتمیں ہم بیان کریں گے ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ مالک ابن ربیعہ انصاری ساعدی۔(اشعہ)تمام غزوات میں حاضر ہوئے،اٹھہتر سال کی عمر پائی ۶۰ساٹھ ہجری میں وفات پائی،آپ سے بہت حضرات نے احادیث نقل کیں۔
۲
؎یعنی جب کفار قریش تم سے اتنے قریب ہوجائیں کہ تمہارے تیر ان تک پہنچ سکیں تو تیر استعمال کرو بہت دور ہوں تو استعمال نہ کرنا کہ اس میں تیر ضائع ہوجائیں گے۔سہمدرمیانی تیر کو کہتے ہیں،بہت لمبے تیر کونشابکہا جاتا ہے،کثبکے معنی ہیں قرب۔(مرقات واشعہ)
۳
؎یعنی سارے تیر استعمال کرکے خود خالی نہ ہوجاؤ کہ کیا خبر کب تیروں کی ضرورت پڑجاوے۔اب بھی لڑائیوں میں ان دونوں قانون پر عمل ہوتا ہے کہ دشمن زد میں ہوجاوے تب گولہ باری کی جاتی ہے اور سارے گولے خرچ نہیں کردیئے جاتے سامان جنگ محفوظ رکھا جاتا ہے۔
۴
؎یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں یہاں ہی تھیں ہم مناسبت کا خیال کرتے ہوئے پہلی حدیث توباب الفقراءمیں بیان کریں گے اور دوسری حدیثباب المعجزاتمیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3946