Main Icon

باب: جہاد میں قتل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3945

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ اِبْنِ عَوْنٍ أَنَّ نَافِعًا كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهٗ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهٗ،أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلٰى بَنِي الْمُصْطَلِقِ غَارِّيْنِ فِي نَعَمِهِمْ بِالْمُرَيْسِيعِ،فَقَتَلَ الْمُقَاتَلَةَ وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله ابن عون أن نافعا كتب إليه يخبره، أن ابن عمر أخبره،أن النبي صلى الله عليه وسلم أغار على بني المصطلق غارين في نعمهم بالمريسيع،فقتل المقاتلة وسبى الذرية. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عون سے ۱؎کہ نافع نے انہیں خبر دیتے ہوئے لکھا کہ حضرت ابن عمر نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی مصطلق پر حملہ فرمایا جب کہ وہ مقام مریسیع میں اپنے جانوروں میں مشغول و غافل تھے ۱؎تو لڑنے والوں کو قتل کیا اور بچوں کو قید کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،ثقہ ہیں،عالم ہیں،آپ کے والد کا نام یا عون ہے نون سے یا عوف ہے ف سے،نون سے عون زیادہ مشہور ہے۔
۲
؎بنی مصطلق قبیلہ خزاعہ کا ایک خاندان ہے،مریسیع مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔حضرت عبدابن عون نے جناب نافع سے پوچھا تھا کہ کیا جہاد سے پہلے کفار کو دعوت اسلام دینا واجب ہے یا ان پر اچانک حملہ کر دینا بھی جائز ہے جب کہ وہ بالکل بے خبر ہوں تب حضرت نافع نے یہ حدیث انہیں لکھ بھیجی جس سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ اول اسلام میں جہاد سے پہلے تبلیغ واجب تھی پھر یہ حکم نہ رہا۔دیکھو حضور انور نے بنی مصطلق پر اچانک حملہ فرمایا،اس غزوہ میں حضرت جویریہ بنت حارث گرفتار ہو کر آئیں جنہیں آزاد فرما کر حضور نے ان سے نکاح کیا،رضی اللہ عنہا۔
۳
؎یعنی مجبورومعذور و بےقصور بچوں،بوڑھوں،دیوانوں،بے بس عورتوں وغیرہم کو قیدی بنالیا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غافل کفار پر اچانک حملہ کردینا جائز ہے،ان کا مال غنیمت لوٹنا،ان کے جوان جنگجو لوگوں کو قتل کرنا،ان کے بچوں عورتوں کو لونڈی غلام بنانا جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3945