Main Icon

باب: جہاد میں قتل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3952

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اُقْتُلُوْا شُيُوْخَ الْمُشْرِكِيْنَ وَاسْتَحْيُوْا شَرْخَهُمْ" أَيْ: صِبْيَانَهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن سمرة بن جندب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "اقتلوا شيوخ المشركين واستحيوا شرخهم" أي: صبيانهم. رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا مشرکوں کے بڈھوں کو قتل کرو ۱؎اور ان سے چھوٹوں یعنی بچوں کو زندہ چھوڑ دو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں بڈھوں سے مراد وہ بڈھے ہیں جو یا تو مسلمانوں کے مقابل جنگ کررہے ہوں یا لڑنے والوں کی پشت پناہی کرتے ہوں یا انہیں لڑاتے ہوں بہرحال جنگ میں حصہ لیتے ہوں،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں کافر بوڑھوں کے قتل سے ممانعت ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاںشیوخسے مراد جنگی تدبیر رکھنے والے جوان ہیں یعنی جو عمر میں جوان ہوں تدبیر و عقل تجربہ میں بوڑھے کیونکہ اس کے مقابل بچوں کا ذکر آرہا ہے۔
۲
؎یہ تفسیر یا صحابی سمرہ ابن جندب کی ہے یا کسی راوی حدیث کی یا خود صاحب مصابیح کی۔شرخشین کے پیش ر کے فتح سے جمع ہےشارخکی جیسےرکبجمع ہےراکبکی۔شرخکے معنی ہیں لڑکپن یا شروع جوانی۔چھوڑنے سے مراد ہے انہیں قتل نہ کرنا بلکہ قیدکرلینا تاکہ انہیں غلام بنالیا جائے یا کسی وجہ سے انہیں آزاد کردیا جائے۔غرضیکہ اس چھوڑنے میں بہت مصلحت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3952