Main Icon

باب: جہاد میں قتل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3943

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَتُّوْنَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، فَيُصَابَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيهِمْ، قَالَ: "هُمْ مِنْهُمْ"وَفِي رِوَايَةٍ: "هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن الصعب بن جثامة قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أهل الدار يبيتون من المشركين، فيصاب من نسائهم وذراريهم، قال: "هم منهم"وفي رواية: "هم من آبائهم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صعب ابن جثامہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مشرکین کے گھر والوں کے متعلق پوچھا گیا جن پر شب خون مارا جائے تو ان کی عورتیں اور بچے بھی قتل ہوجائیں فرمایا وہ سب ان سے ہی ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے باپوں سے ہیں۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ لیثی ہیں،دوان اور ابواء میں رہتے تھے،ابوبکر صدیق کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی شب خون مارنا رات کے اندھیرے میں کفار پر حملہ کردینا جائز ہے،مگر اس وقت جوان کافروں کے مارنے کی نیت کرو،عورتیں بچے اگر اندھیرے میں تمہارے ارادہ کے بغیر مارے جائیں تو تم پر گناہ نہیں کہ وہ بھی کفار کے حکم میں ہیں۔بہرحال کفار کے عورتوں بچوں کو قتل کی ممانعت ارادۃً قتل سے تھی یہاں اجازت بغیر ارادۂ قتل کی ہے لہذا ان احکام میں تعارض نہیں۔جیسے کفار کے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو قتل کرنا حرام ہے لیکن اگر اس شبِ خون مارنے میں وہ بھی قتل ہوجائیں یا کفار مسلمان بچوں یا مسلمانوں کو اپنے آگے رکھ لیں تو ان پر تیر اندازی،گولہ باری جائز ہے مگر کفار کو قتل کرنے کی نیت سے کی جائے اگرچہ وہ مسلمان بھی اس سے ہلاک ہوجائیں کیونکہ مجاہدین ان وجوہ سے جہاد نہ کریں تو اسلام کی بقا کیونکر ہوگی۔ اس کی مفصّل بحث فتح القدیر اور مرقات میں ملاحظہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3943