Main Icon

باب: جہاد میں قتل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3959

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ ثَوْبَانَ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمِنْجَنِيْقَ عَلٰى أَهْلِ الطَّائِفِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلًا.

عن ثوبان بن يزيد: أن النبي صلى الله عليه وسلم نصب المنجنيق على أهل الطائف. رواه الترمذي مرسلا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان ابن یزید سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے طائف والوں پر گوپھن نصب فرمایا ۲؎(ترمذی مرسلًا) ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎حق یہ ہے کہ ثور ابن یزید ہیں کیونکہ ثوبان ابن یزید صحابہ تابعین میں کسی کا نام نہیں،بعض نسخوں میں صرف ثوبان ہے وہ حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں مگر انکے والد کا نام یزید نہیں ثور ابن یزید کلاعی شامی حمصی ہیں،تابعی ہیں،حضرت خالد ابن معدان سے ملاقات ہے، ۵۵اھ؁ ∞ ایک سو پچپن ہجری میں وفات پائی۔ (مرقات)
۲
؎یعنی حضور انور نے غزوہ طائف میں طائف کے کنارہ پر گوپھن(گھونی)نصب فرمائی تاکہ اس میں پتھر رکھ کر طائف پر پتھروں کی گولہ باری کی جائے۔بڑی گوپھن سے قلعہ کی دیواریں تک توڑ دی جاتی تھیں،طائف کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔فقیر نے طائف کی زیارت کی ہے،وہاں حضرت عبداللہ ابن عباس کا مزار پرانوار ہے۔
۳
؎چونکہ ثور ابن یزید تابعی ہیں،انہوں نے صحابی کا نام لیا نہیں،اس لیے یہ حدیث مرسل ہوئی۔خیال رہے کہ طائف کے معنی ہیں گھومنے والا،چونکہ طائف کا راستہ پیچ دار ہے کہ مکہ معظمہ سے طائف جانے والا گھومتا خم کھاتا ہوا جاتا ہے،نیز یہ زمین پہلے ملک شام میں تھی رب تعالٰی نے وہاں سے منتقل فرما کر اسے بیتکا طواف کراکر یہاں رکھی دعاء ابراہیم کی وجہ سے۔نیز یہ سرزمین عرصہ تک پانی پرگردش کرتی رہی طوفان نوح میں۔ان وجوہ سے اسے طائف کہتے ہیں،بڑی سرسبز ہے آب و ہوا بہت اچھی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3959