Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1219

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلیٰ قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلیٰ كُلِّ عُقْدَةٍ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ. فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِنْ صَلّٰى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيْثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعقد الشيطان علی قافية رأس أحدكم إذا هو نام ثلاث عقد يضرب علی كل عقدة: عليك ليل طويل فارقد. فإن استيقظ فذكر الله انحلت عقدة فإن توضأ انحلت عقدة فإن صلى انحلت عقدة فأصبح نشيطا طيب النفس وإلا أصبح خبيث النفس كسلان "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی سوتا ہے تو شیطان اس کے سر کی گدی پر تین گرہیں لگادیتا ہے ۱؎ہر گرہ پر یہ ڈالتا ہے کہ ابھی رات بہت ہے سوجا ۲؎پھر اگر بندہ بیدار ہوجائے تو الله کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ۳؎پھراگر وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے پھر اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے۴؎اور وہ خوش دل پاک نفس صبح کرتا ہے وگرنہ پلید طبیعت اور سست صبح پاتا ہے۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں گرہ کے ظاہری معنی ہی مراد ہیں بلاوجہ تاویل کی ضرورت نہیں جادو گر دھاگے یا بالوں میں کچھ دم کرکے گرہ لگا دیتے ہیں جس کا اثر مسحور پر ہوجاتا ہے ایسے ہی شیطان انسان کے بالوں میں یا دھاگے میں صبح کے وقت غفلت کی تین گرہیں لگا دیتا ہے اسی لیئے صبح کے وقت بڑے مزے کی نیند آتی ہے،حضور صلی الله علیہ وسلم نے ان تین گرہوں کے کھولنے کے لیئے تین عمل ارشاد فرمائے۔
۲
؎یعنی یہ لفظ کہہ کر دم کرتا ہے اور گرہ لگا دیتا ہے جس کے اثر سے انسان پر غفلت طاری ہوجاتی ہے۔مشائخ الله کا ذکر کرکے دھاگے پر پھونکتے اور گرہ لگاتے ہیں پھر مریض کے گلے میں ڈال دیتے ہیں اس کا ماخذ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے۔معلوم ہوا کہ گنڈا حق ہے جس گنڈے کی حدیث شریف میں برائی آئی ہے وہ وہ گنڈا ہے جس پر شرکیہ الفاظ پڑھ کر دم کیا جائے۔
۳
؎یہاں الله کے ذکر سے وہ ذکر مراد ہے جو اٹھتے ہی مومن کرتا ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا یہ ذکر اس جادو کا اتار ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا ذکر اور آپ پر درود شریف بھی الله کا ذکر ہے اگر درود پر آنکھ کھلے تب بھی یہ ہی فائدہ ہوگا۔
۴
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے اسی لیئے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث تہجد کے باب میں لائے اور اگر کوئی نماز فجر کے لیئے اٹھے اور یہ عمل کرے تب بھیان شاء اللهیہ فوائد ہوں گے۔بعض روایات میں ا سی جگہعُقَدْہےعُقْدَہکی جمع معنی یہ ہوئے کہ اگر نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں کیونکہ جب تیسری گرہ کھل گئی تو سب ہی کھل گئی یا چونکہ نمازی آدمی وضو بھی کرتا ہے ذکر الله بھی لہذا نماز میں وہ دونوں چیزیں آگئیں۔خیال رہے کہ جن عورتوں کی نماز معاف ہے وہ بھی معافی کے زمانہ میں جلد جاگیں، الله کا ذکر کریں،وضو کرلیں تو بہت اچھا ورنہ تڑکے ہی منہ ہاتھ دھولیں۔
۵
؎یعنی نماز تہجد کی برکت سے دل میں خوشی،نفس میں پاکی نصیب ہوتی ہے جو اس سے محروم ہے وہ ان دونوں کے کمال سے محروم ہے۔ (مرقاۃ)اور جو نماز فجر سے غافل رہا اسے سستی بہت ہی ہوتی ہے،صبح کا اٹھنا تندرستی کی اصل ہے صبح سوتے رہنا بیماریوں کی جڑ ہے اسی لیئے سمجھ دار کفار بھی اندھیرے منہ جاگتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1219