Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1221

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقِيْلَ لَهٗ مَازَالَ نَائِمًا حَتّٰى أَصْبَحَ مَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: «ذٰلِكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهٖ» أَو قَالَ: «فِي أُذُنَيْهِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن مسعود قال: ذكر عند النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقيل له مازال نائما حتى أصبح ما قام إلى الصلاة قال: «ذلك رجل بال الشيطان في أذنه» أو قال: «في أذنيه»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کا ذکر کیا گیا آپ سے عرض کیا گیا وہ صبح تک سوتا رہا نماز کے لیئے نہ اٹھا ۱؎آپ نےفرمایا کہ اس شخص کے کان میں شیطان نے پیشاب کردیا فرمایا دونوں کانوں میں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نماز تہجد کے لیئے یا نمازِ فجر کے لیئے پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں کیونکہ صحابہ کرام فجر ہرگز قضاء نہ کرتے تھے اور ممکن ہے کسی منافق کا واقعہ ہو جو فجر میں نہ آتے تھے۔معلوم ہوا کہ نماز فجر میں نہ جاگنا بڑی نحوست ہے،نیز کوتاہی کرنے والوں کی شکایت اصلاح کی غرض سے کرنا جائز ہے غیبت نہیں۔
۲
؎حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے تاویل کی کوئی ضرورت نہیں۔شیطان کھاتا بھی ہے،پیتا بھی ہے،قے بھی کرتا ہے گوز بھی مارتا ہے لہذا پیشاب بھی کرتا ہے چونکہ کان ہی سے اذان کی آواز سنی جاتی ہے اس لیئے وہ خبیث غافل کے کان ہی میں موتتا ہے یعنی اسے ذلیل بھی کرتا ہے اور غافل بھی۔(لمعات)خیال رہے کہ یہ حکم ان لوگوں کے لیئے ہے جو اپنی کوتاہی کی وجہ سے صبح کو نہ جاگیں۔حضور انور صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا تعریس کی رات صبح کو نہ جاگنا رب کی طرف سے تھا تاکہ امت کو نماز فجر قضاء پڑھنے کے احکام معلوم ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1221