Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1226

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ تَعْنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهٗ ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهٗ حَاجَةٌ إِلٰى أَهْلِهٖ قَضٰى حَاجَتَهٗ ثُمَّ يَنَامُ فَإِنْ كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ جُنُبًا وَثَبَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: كان تعني رسول الله صلى الله عليه وسلم ينام أول الليل ويحيي آخره ثم إن كانت له حاجة إلى أهله قضى حاجته ثم ينام فإن كان عند النداء الأول جنبا وثب فأفاض عليه الماء وإن لم يكن جنبا توضأ للصلاة ثم صلى ركعتين "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اول رات سوتے تھے اور آخر رات جاگتے تھے پھر اگر آپ کو اپنے اہل سے حاجت ہوتی تو حاجت پوری فرماتے پھر سو جاتے ۱؎پھر اگر پہلی اذان کے وقت جنابت میں ہوتے جلدی کھڑے ہو کر اپنے پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو نماز کے لیئے وضو کرتے پھر دو رکعتیں پڑھتے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا بیوی سے قربت کا بہترین وقت آخری رات ہے یعنی بعد تہجد کہ اس وقت معدہ خالی ہوتا ہے بھرے پیٹ صحبت نقصان دہ ہے اور اس وقت کی قربت سے جو اولاد ہوگی وہاِنْ شَاءَاللّٰهُنیک و صالح ہوگی خصوصًا جب تہجد کے بعد قربت ہو صحبت صرف شہوت پوری کرنے کے لیئے نہیں بلکہ اس میں اور بھی مصلحتیں ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم وضو کرکے سوتے تھے جیسا کہ دیگر روایات میں ہے اور یہ عمل بھی دائمی نہ تھا بلکہ کبھی غسل کرکے سوتے تھے یہ عمل بیان جواز کے لیئے ہے اور وہ عمل بیان استحباب کے لیئے۔
۲
؎یہ سنت فجر کی رکعتیں تھیں جو حضور صلی الله علیہ وسلم گھر میں ادا فرماتے تھے اور فجر کے فرض باجماعت مسجد میں یہ ہی سنت ہے اور اگر بعد سنت فجر ستر بار استغفار پڑھ لی جائے تو بہت ہی بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1226