Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1222

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلْمَةَ قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَزِعًا يَقُولُ: «سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ؟ وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ» يُرِيدُ أَزْوَاجَهٗ «لِكَيْ يُصَلِّينَ؟ رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ» أَخْرَجَهُ البُخَارِيُّ

وعن أم سلمة قالت: استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فزعا يقول: «سبحان الله ماذا أنزل الليلة من الخزائن؟ وماذا أنزل من الفتن؟ من يوقظ صواحب الحجرات» يريد أزواجه «لكي يصلين؟ رب كاسية في الدنيا عارية في الآخرة» أخرجه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ ایک رات حضور صلی الله علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدارہوئے کہ فرماتے تھےسُبْحَانَ اللّٰهِاس رات کتنے خزانے اتر رہے ہیں اور کتنے فتنے نازل ہورہے ہیں ۱؎ان حجرے والیوں کو کون اٹھائے ۲؎(آپ کی بیویوں کو)کہ نماز پڑھ لیں بہت سی دنیا میں ڈھکی ہوئی آخرت میں ننگی ہوں گی۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس رات غافلوں کے لیئے فتنے اتررہے ہیں اور عابدوں کے لیئے الله کی رحمتیں۔مرقاۃ نے فرمایا کہ فتنوں سے مراد صحابہ کرام کی آپس کی جنگیں ہیں جو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس رات اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں اور ہوسکتا ہے کہ قیامت تک جو فتنے اور رحمتیں دنیا میں آئیں گی حضور صلی الله علیہ وسلم نے آج ہی اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمالیں جیسے ہم خواب یا خیال میں آیندہ واقعات دیکھ لیتے ہیں حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی نگاہ ہمارے خواب و خیال سے زیادہ تیز ہے۔
۲
؎حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ کلمات اتنی آواز سے فرمائے کہ ازواج مطہرات نے بھی سن لیئے اور تمام تہجد کے لیئے اٹھ بیٹھیں آپ کا فرمانا کہ کون اٹھائے احسن طریقے سے اٹھانے ہی کے لیئے تھا۔
۳
؎یعنی جسم کا لباس کپڑا ہے روح کا لباس اعمال بہت سی مالدار اور عیاش عورتیں جو یہاں لباس فاخرہ پہنتی تھیں وہ قیامت میں اعمال سے خالی ہوں گی لہذا اے بیبیوں وہاں کے لباس کی تیاری کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1222