Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1237

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ فَقَالَ: إِنَّهٗ سَيَنْهَاهُ مَا تَقُولُ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن فلانا يصلي بالليل فإذا أصبح سرق فقال: إنه سينهاه ما تقول. رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا فلاں شخص رات میں تو نماز پڑھتا ہے جب صبح ہوتی ہے چوری کرتا ہے ۱؎فرمایا کہ اسے نماز اس چیز سے روک دے گی جو تو کہہ رہا ہے ۲؎(احمد،بیہقی ،شعب الایمان )

شرح حدیث

۱∞؎یعنی رات کے آخری حصہ میں چوری کرتا ہے یا دن میں کم تولتا ہے یہ بھی ایک قسم کی چوری ہے۔
۲
؎یعنی نماز کی برکت سے وہ ان عیوب سے توبہ کرے گا یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے"اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنْ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ"۔خیال رہے کہ سارے صحابہ عادل ہیں کوئی فاسق نہیں یعنی گناہ پر قائم کوئی نہ رہا،بعض تو پہلے ہی سے گناہوں سے محفوظ تھے جیسے ابوبکر صدیق اور بعض سے گناہ سرزد ہوئے اور بعد میں تائب ہوگئے جیسے یہ شخص جس کی شکایت ہوئی۔یہ بھی خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے نہ تو اس چور کے ہاتھ اس وقت کٹوائےکیونکہ چوری کا ثبوت شرعی نہ ہوا،نہ شکایت کرنے والے کو غیبت پر کوئی تنبیہ فرمائی کیونکہ وہ غیبت نہ کررہے تھے بلکہ ان کی اصلاح کے خواہاں تھے،جیسے شاگرد کی شکایت استاد سے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب تم فلاں گناہ کرتے ہو تو تمہیں داڑھی رکھنے یا نماز پڑھنے سے کیا فائدہ سخت غلط ہےاِنْ شَاءَاللّٰهُیہ- نیکیاں گناہ چھڑا دیں گی۔گناہ کی وجہ سے نیکیوں کو نہ چھوڑو بلکہ نیکیوں کی وجہ سے گناہ چھوڑ دو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1237