Main Icon

باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1220

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهٗ : لِمَ تَصْنَعُ هٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكِ وَمَا تَأَخَّرَ؟قَالَ:«أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن المغيرة قال: قام النبي صلى الله عليه وسلم حتى تورمت قدماه فقيل له : لم تصنع هذا وقد غفر لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟قال:«أفلا أكون عبدا شكورا»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مغیرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے یہاں تک قیام فرمایا کہ آپ کے قدم سوج گئے ۱؎آپ سے عرض کیا گیا کہ ایسا کیوں کرتے ہیں آپ کے تو اگلے پچھلے بخش دیئے گئے ۲؎تو فرمایا کیا میں بندہ شاکر نہ ہوؤں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دراز قیام کے باعث یعنی تہجد میں اتنا دراز قیام فرمایا کہ کھڑے کھڑے قدم پر ورم آگیا یہ حدیث شبینہ پڑھنے والوں اور ان صوفیاکی دلیل ہے جو تمام رات نماز پڑھتے ہیں جیسے حضور غوث پاک اور امام اعظم ابو حنیفہ رضی الله عنہم اجمعین ان بزرگوں پر اعتراض نہ کرو۔
۲
؎یعنی یا حبیب الله اتنا لمبا قیام ہم لوگ کریں تو مناسب ہے کہ ہم گنہگار ہیں الله تعالےٰ اس کی برکت سے ہمارے گناہ بخش دے حضور صلی الله علیہ وسلم کی برکت سے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کی امت کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے پھر اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ بخشنے کی بہت توجیہیں عرض کی جاچکی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے جو ابھی عرض کی گئی۔
۳
؎یعنی میری یہ نماز مغفرت کے لیئے نہیں بلکہ مغفرت کے شکریہ کے لیئے ہے۔خیال رہے کہ ہم لوگ عبد ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم عبدہٗ ہیں،ہم لوگ شاکر ہوسکتے ہیں حضور صلے الله علیہ وسلم شکور ہیں یعنی ہر طرح ہر وقت ہر قسم کااعلی شکرنے والے مقبول بندے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ جنت کی لالچ میں عبادت کرنے والےتاجر ہیں،دوزخ کے خوف سے عبادت کرنے والے عبد ہیں مگر شکر کی عبادت کرنے والے احرار ہیں۔(ربیع الابرار و مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1220