Main Icon

باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2294

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ".
وَفِي رِوَايَةٍ: "أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللّٰهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن سمرة بن جندب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أفضل الكلام أربع: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر".
وفي رواية: "أحب الكلام إلى الله أربع: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، لا يضرك بأيهن بدأت". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ بن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے افضل کلمات چار ہیں ۱؎سبحان الله،الحمد لله،لا الہ الا اللهاورالله اکبر۲؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اللہ کو پیارے کلمات چار ہیںسبحان الله،الحمد لله،لا الہ الا اللهاورالله اکبرجس کلمہ سے ابتداءکرو مضر نہیں ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی انسانی کلمات یا دوسرے وِردوظیفوں سے یہ چار کلمے بہت ثواب کا باعث ہیں کیونکہ ان کلمات میں رب تعالٰی کی بے شمار حمدیں مذکور ہیں۔سبحان اللهکے معنے ہیں میں اللہ تعالٰی کو سارے عیوب سے پاک مانتا ہوں۔الحمدللهکے معنے ہوئے تمام ہی تعریفیں رب تعالٰی کی ہیں کہ وہ تمام صفات کمالیہ کا جامع ہے۔لا الہالخ وہ کلمہ ہے جسے پڑھ کر بندہ مسلمان بنتا ہے اورالله اکبرمیں اس کی کبریائی اور تمام مخلوق سے بڑے ہونے کا اعتراف ہے لہذا یہ کلمات رب تعالٰی کی جامع صفات ہیں،اب حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سب سے افضل تو قرآن شریف ہے پھر یہ کلمات کیسے افضل ہوگئے۔خیال رہے کہ یہ چاروں کلمات قرآن شریف میں موجود ہیں اگلے تین تو صراحۃً چوتھا کلمہ اشارۃً و معنًی،دوسری روایت میں ہے کہ یہ کلمات باقیات صالحات سے ہیں۔یہ بھی خیال رہے کہ ان کلمات کو کلام فرمانا لغۃً ہے نہ کہ اصطلاحًا لہذا اگر کوئی شخص کلام نہ کرنے کی قسم کھائے وہ ان کلمات کے پڑھنے سے حانث نہ ہوگا کہ قسم میں کلام سے مراد انسان کا کلام ہے جسے اصطلاح میں کلام کہا جاتا ہے۔
۲
؎الله اکبرکے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی ہماری حمدوثنا بلکہ ہمارے خیال و وہم سے بڑا ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے"لَا اُحْصِیْ ثَنَاءَ عَلَیْكَ"میں تیری ثناء کما حقہ نہیں کرسکتا۔
۳
؎مرقات میں فرمایا کہ یہ ترتیب عزیمت ہے،اس کے خلاف رخصت یعنی بہتر یہ ہے کہ اس ترتیب سے ان کا ورد کرے اگر اس کے خلاف بھی کیا تو حرج نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2294